تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 365
تاریخ احمدیت 365 جلد ۲۰ دیں۔مجھے لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے والد صاحب اور چچا صاحب مخلص احمدی تھے اور قادیان آتے جاتے تھے۔میں "بدر" سے حضرت خلیفہ ثانی کے زور دینے پر تفخیذ الاذہان میں منتقل ہو چکا تھا اور ضیاء الاسلام پریس کے بعد میگزین پریس دستی میرے زیر اثر تھا اور میرے مضامین واشعار بعض بیرونی اخبار میں چھپتے تھے۔جن سے میرا تعارف سلسلہ سے باہر بھی تھا۔میں نے ان کو لکھا کہ نیا رسالہ ایک مبتدی کا مقبولِ عام نہیں ہو سکے گا۔کیوں خواہ مخواہ خرچ کرتے ہومگر وہ چند روز بعد رسالہ کا مسودہ غالبا کا پیاں لے کر آگئے۔میں نے کہا جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے آپ کی مدد کرنے کو تیار ہوں۔وہ بہت جلد مجھ سے بے تکلف ہو گئے۔میں بوجہ دائم المرض اور کمزور ہونے کے ایک تخت پر گدا ڈال کر کام کیا کرتا تھا۔وہ میرے پاس ہی بیٹھے تھے میں ان سے باتیں بھی کرتا جاتا اور کچھ لکھ بھی رہا تھا پوچھا یہ کیا لکھ رہے ہیں۔میں نے کہا ”نظم “ اور آپ سے خطاب ہے’ سالک راہ ھدی آجا ادھر جان من ظلمت کدے میں کچھ نہیں نور منزل میں عصا شوق گاڑ چاہیئے ہرگز نہ اہلِ ارض کو آسمان کے رہنے والوں سے بگاڑ آفتاب صدق سے دے گا روشنی کھول دے تو خانہ دل کے کواڑ دست بازو اکمل محزوں کا بن! بند کر اس کے عدو کی چھیڑ چھاڑ یہ پندرہ سولہ اشعار کی نظم تھی میں نے جب قوافی کے بارے میں عرض کیا تو دو چار قافیے مہیا کئے۔کہنے لگے چچا صاحب نے بھی توجہ دلائی تھی اور آپ بھی کہتے ہیں۔میں حضرت خلیفہ امسیح (اول) کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں۔میں نے کہا وہ آپ کے والدین اور عمو صاحب کو جانتے ہیں میرے ساتھ جانے یا تعارف کی ضرورت نہیں۔اس طرح ان کے اخلاق فاضلہ کا اندازہ بھی ہو جائے گا ساتھ دفتر کا ایک آدمی کر دیا وہاں سے ایک گھنٹہ بعد واپس آئے کہ لو قاضی صاحب تعمیل ارشاد کر آیا بیعت بھی ہو گئی۔مسائل کا علم تو مجھے پہلے ہی سے کافی