تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 21
تاریخ احمدیت 21 جلد ۲۰ ۲- حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب -۳ - خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ۴- مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب -۵ مولوی عبد الرحمن صاحب انور ۶ - چوہدری محمد شریف صاحب فاضل سابق مجاہد بلا د عر بیہے۔سید منیر احمد صاحب باہری (سیکرٹری ) ۱۲ جنوری ۱۹۵۸ء کو یہ انجمن باقاعدہ رجسٹر ہوگئی اور مندرجہ بالا اصحاب ہی اس کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔۲۰ معلمین کے پہلے وفد کی تیاری اور روانگی سیدنا حضرت مصلح موجودہی ہدایات کے تحت وقف جدید کے مالی نظام کے ساتھ ساتھ واقفین کے انٹرویو اور انتخاب کا کام بھی شروع کر دیا گیا۔حضور نے منتخب شدہ واقفین کی منظوری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ابتداء میں دس معلمین کے ذریعہ اصلاح و تعلیم کی جدو جہد کا آغاز کیا جائے۔چنانچہ اس کی تعمیل میں ایک مختصر تربیتی کلاس کا انتظام کیا گیا اور بہت جلد معلمین کا ایک مختصر گروہ میدانِ عمل کے لئے تیار ہو گیا۔۳۱ / جنوری ۱۹۵۸ء کو ان معلمین کے اعزاز میں دفتر وقف جدید اور مجلس تجار کی طرف سے عصرانہ کی علیحدہ علیحدہ پارٹیوں کا اہتمام کیا گیا اول الذکر میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے اور موخر الذکر میں خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے دعا کرائی۔اگلے روز یکم فروری ۱۹۵۸ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے دیگر مخلص احباب کے ساتھ ربوہ اسٹیشن پر الوداعی اور اجتماعی دعا کرائی اور وقف جدید کا پہلا وفدا اپنے مراکز کی طرف روانہ ہوا جو حسب ذیل معلمین پر مشتمل تھا، احسان الہی صاحب، محمد یوسف صاحب (برائے بہاولپور ) منیر احمد صاحب محمود ( برائے لیہ ) مبارک احمد صاحب (برائے چک نمبر ۶۲ جڑانوالہ)۔۲۳ اس پہلے تاریخی وفد کے بعد اسی سال مارچ اپریل مئی اور ستمبر میں پانچ اور وفود بھجوائے جن میں حسب ذیل معلمین بھی شامل تھے۔لیہ سید عبد السلام صاحب مٹھ ٹوانہ مولوی ظفر محمد صاحب مبارک احمد صاحب و محمد عباس صاحب مردان منظور احمد صاحب کوٹ فتح خان کریم بخش صاحب اوچ شریف عبدالرحمن صاحب گرمولاں درکاں ملک محمد صادق صاحب چک ۶۲ جڑانوالہ ظہور احمد صاحب ناصر کوٹ احمدیاں محمد احمد نسیم صاحب انور آباد عبدالعزیز صاحب وعبدالرشید عابد صاحب جابه