تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 22
تاریخ احمدیت 22 جلد ۲۰ غلام محمد حق صاحب آدھی کوٹ حکیم محمد جمیل صاحب چک ۲۲۳ فورٹ عباس سید مشتاق احمد صاحب کوٹ فتح خان صوفی کریم بخش صاحب لودھراں چوہدری جمال الدین صاحب برجی بابل عبد الوحید صاحب محمد آباد محمد طفیل وحکیم عطاء الرحمن صاحب ریو کے خلیل احمد خالد ونصیر احمد صاحب شاد ڈسکہ محمد زمان خان صاحب چک ۶۲ جڑانوالہ یہ اسماء أن معلمین کرام کے ہیں جو ۲۳ جنوری ۱۹۵۸ء اور ۲۶ / مارچ ۱۹۵۸ء کو منتخب ہوئے۔بعد ازاں ۲۷ را پریل ۱۹۵۸ء کو مزید چوبیس معلمین با تنخواہ اور سات اعزازی معلمین لئے گئے۔۲۴ اخبار الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ معلمین کا تیسرا وفد ۷/اپریل کو، چوتھا ۱٫۸اپریل کو پانچواں ۲ رمئی کو اور چھٹا ۲۶ ستمبر ۱۹۵۸ء سے قبل روانہ ہوا۔پانچویں وفد سے میدان عمل میں مصروف عمل معلمین کی کل تعداد ۷۲ تک پہنچ گئی اور چھٹا وفد نو معلمین پر مشتمل تھا۔اسی طرح ستمبر ۱۹۵۸ء تک وقف جدید کے اکیاسی معلمین سرگرم عمل ہو چکے تھے۔۲۵ وقف جدید کے پہلے انسپکٹر وقف جدید کے سب سے پہلے انسپکٹر ارشاد ۵ فروری ۱۹۵۸ء - منشی فاضل مقرر کئے گئے۔کو زیر یزولیوشن نمبر ۲۱ صوفی خدا بخش صاحب عبد زیروی بی-اے، اس عظیم الشان الہی اور آسمانی تحریک کے تین بنیادی مطالبات پہلا یوم وقف جدید تھے۔(1) خدمت دین اور خدمت خلق کا شوق رکھنے والے حضرات جو کم از کم پرائمری پاس ہوں اپنی زندگی وقف کریں۔۲- جو اصحاب وقف کرنے سے قاصر ہوں کم از کم چھ روپے سالانہ چندہ اس مد میں دیں اور جو نادار ہوں وہ چھ آدمی مل کر یہ سالانہ چندہ ادا کریں۔۳ - جماعت احمدیہ کے معزز زمیندار دس دس ایکڑ زمین وقف کریں ( چھوٹے زمیندار مل کر بھی دس ایکڑ پیش کر سکتے ہیں )۔ان تینوں مطالبات کو پاک و ہند کی جماعتوں کے سامنے رکھنے اور مخلصین جماعت سے وعدے لے کر مکمل فہرستیں بھجوانے کے لئے پہلا یوم وقف جدید ۹ رفروری ۱۹۵۸ء کو منایا گیا۔۲۶