تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 20 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 20

تاریخ احمدیت 20 20 تحریک وقف جدید میں حضور نے ایک لاکھ چندہ دینے والے احمدیوں کا مطالبہ کیا ہے آج خطبہ جمعہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے میرے دل میں یہ تحریک کی کہ میں ہر چندہ دینے والے احمدی کی طرف سے ضرور کچھ نہ کچھ حصہ ادا کروں شاید اسی طرح اللہ تعالی خاکسار کو اپنی چادر رحمت میں ڈھانپ لے۔سو میں ایک پائی ہر احمدی کی طرف سے ادا کرتا ہوں یعنی کل ایک لاکھ پائی مبلغ ۵۲۰/۱۳/۴ روپے“۔14 - جلد ۲۰ اس خط کے ساتھ ماسٹر صاحب موصوف نے اپنے چندہ کا چیک بھی بھجوا دیا۔۱۹۵۸ء میں وقف جدید کو چندے کی آمد انسٹھ ہزار سات سو انیس روپے ہوئی اور زمین کی پیداوار سے ایک ہزار سات سو اکہتر روپے حاصل ہوئے جس کے بعد وقف جدید کا مالی قدم ہر سال نمایاں طور پر تیزی سے آگے بڑھنے لگا یہانتک کہ ۱۹۶۵ء میں بانی تحریک حضرت مصلح موعود کا وصال ہوا تو اس کی آمد اپنے آغاز کی نسبت دو گنا اضافے کی حد تک پہنچ چکی تھی۔چنانچہ اس سال چندہ کی رقم ایک لاکھ پندرہ ہزار چار سو اٹھارہ روپے تھی اور زمین کی آمد چھ ہزار دوسوسولہ روپے۔ازاں بعد خلافت ثالثہ کے سترہ سالہ مبارک دور کے دوران یہ تحریک مالی اعتبار سے اور مستحکم ہو گئی اور ۱۹۸۲ء میں اس کی آمدسات لاکھ تر بین ہزار دو سو تہتر روپے تک جاتا ۱۸ تمصل سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی الصلح الموعود نے تحریک وقف جدید دفتر وقف جدید کا قیام کے با ضابطہ اعلان کے ساتھ ہی اس کے عملی کام کا آغا ز فرما دیا اور ۹ جنوری ۱۹۵۸ء کو مکرم سید منیر احمد صاحب باہری سابق مجاہد برما کو انچارج وقف جدید مقرر کرتے ہوئے با قاعدہ دفتر کھولنے کی ہدایت فرمائی اور بطور کلرک فضل الرحمن صاحب نعیم ابن عبد الرحمن صاحب اتالیق کی منظوری دی۔چنانچہ اسی روز وقف جدید کا دفتر ، پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے احاطہ میں قائم ہو گیا اور انہوں نے حضور کی براہِ راست نگرانی میں کام شروع کر دیا۔دفتری ریکارڈ کے مطابق وقف جدید کا پہلا ریزولیوشن ۱۳ /جنوری ۱۹۵۸ء کو ہوا۔۱۹ رجسٹریشن اور ابتدائی ممبران حضور انور نے انجمن وقف جدید کے حسب ذیل ممبران مقرر فرمائے :- ۱- شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ ضلع لائلپور (فیصل آباد ) صدر