تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 349
تاریخ احمدیت 349 بہت خوبیوں کا مالک تھا لیکن پھر ساتھ ہی لکھتے ہیں کہ آخر میں وہ يقطعون ما امرالله به ان يوصل کا مرتکب ہوا۔میرا دل بے شک محزون اور صدمہ خوردہ ہے عبداللہ خان کو میرے ساتھ بہت گہری محبت تھی اتنی گہری اور شدید کہ بعض دفعہ مجھے خوف ہونے لگتا تھا کہ اتنی شدت کی محبت جائز بھی ہے یا نہیں۔مجھے بھی وہ بہت پیارا تھا۔بوجہ بھائی ہونے کے۔بوجہ عرصہ سے رہینِ الم ہونے کے۔بوجہ اپنی محبت اور اطاعت کے۔بوجہ سلسلہ کے لئے انتہائی غیرت رکھنے کے۔بوجہ حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ بنصره العزيز ومتعنا الله بطول حیاتہ کی ذات بابرکات کے ساتھ والہانہ عشق کے۔بوجہ بندگان خدا کے ساتھ ہمدردی اور ان کی خدمت کے جذبے کے۔اور بوجہ اپنی بہت سی اور خوبیوں کے جو ہزاروں دلوں کو گرویدہ کئے ہوئے تھیں۔اس کی جدائی پر میرے دل کا مبتلائے درد ہونا طبعی امر ہے اس حالت میں جب میں نے اچانک یہ فقرہ پڑھا کہ عبداللہ خان آخر میں يقطعون ما امر الله به ان يوصل کا مرتکب ہوا تو میرا دل مرغ بسمل کی طرح تڑپا دیا اور مجھے لکھنے والے کے دل اور دماغ کی کیفیت پر رحم آیا۔جب میری حالت کچھ سنبھلی اور میں کچھ غور کر سکا تو مجھے احساس ہوا کہ لکھنے والے نے یہ خط مجھے ہمدردی کی نیت سے نہیں لکھا اور یہ فقرہ اس کے قلم سے لاعلمی اور نہ منہی میں نہیں نکلا۔اس نے یہ فقرہ عمداً لکھا ہے اور اسے لکھ کر میرے مرحوم بھائی کے مردہ جسم اور اس کی زندہ روح کو ایک مسموم خنجر کے ساتھ ذبح کرنا چاہا ہے۔۔۔میں اپنے دل کے درد اور دکھ کا شکوہ نہیں کرتا۔انما اشكوا بثي وحزنى الى الله۔مولوی صاحب سے صرف اتنا کہتا ہوں اے ہلاک اللہ چه بد فهمیده والسلام خاکسار ظفر اللہ خان بیگ ۱۳؍ جولائی ۱۹۵۹ء جلد ۲۰ ۳۴ سال ۱۹۵۹ء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام خدام احمدیت کے نام میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر حضرت مرزا بشیر احمد نے خدام کو یہ پیغام دیا: -