تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 348
تاریخ احمدیت 348 یہ عاجز دو ماہ زیر علاج رہنے کے بعد ۱۴ ستمبر ۱۹۵۹ء کو خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان سے اور حضور مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ اور احباب جماعت کی دعاؤں کی برکت سے صحت یاب ہو کر گھر آگیا۔الحمد لله على احسانه۔ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء۔٣٣ جلد ۲۰ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب چوہدری محمد عبد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی سلسلہ احمدیہ کے کی غیرت ایمانی اور خلافت سے عقیدت فدائی وشیدائی اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے چھوٹے بھائی تھے جو اس سال ۱۳رجون ۱۹۵۹ء کو رحلت فرما گئے۔دنیائے احمدیت کی اس ممتاز شخصیت کے مختصر حالات سوانح تو آگے آرہے ہیں یہاں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی غیرت ایمانی اور خلافت سے عقیدت کا اہم واقعہ بتانا مقصود ہے جو اس قومی المیہ کے بعد پیش آیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ چوہدری محمد عبد اللہ خاں صاحب کے انتقال پر جہاں بہت سے احمدی بزرگوں اور دوستوں نے تعزیتی خطوط حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو لکھے وہاں میاں عبد المنان صاحب عمر ایم اے ( خلف حضرت خلیفہ اول) نے بھی ایک مکتوب لکھا جس میں انہوں نے مرحوم پر اس وجہ سے ناپاک حملہ کیا کہ آپ نے حضرت مصلح موعودؓ سے بے مثال فدائیت کے باعث ابناء خلیفہ اول سے قطع تعلق کر لیا تھا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی غیرت ایمانی نے اس موقع پر خاموش رہنا گوارا نہ کیا اور ہیگ سے ۱۳ / جولائی ۱۹۵۹ء کو ایک مفصل مکتوب لکھا جس کے لفظ لفظ سے خلافت سے عقیدت و شیفتگی ٹپکتی ہے۔آپ نے تحریر فرمایا : - خط لکھنے والے صاحب نے ظاہر تو یہ کیا ہے کہ اس صدمہ میں انہیں میرے ساتھ ہمدردی ہے اور اس ہمدردی کے جذبہ نے انہیں آمادہ کیا ہے کہ وہ میری دلجوئی کی خاطر مجھے خط لکھیں چنانچہ دورانِ تحریر میں انہوں نے لکھا ہے کہ عبداللہ خاں سب بھائیوں میں سے بڑھ کر تمہارا فرمانبردار تھا اور تم سے محبت کرتا تھا اس لئے تمہیں اس کی جدائی کا صدمہ بھی زیادہ محسوس ہوا ہوگا اس احساس کے ماتحت بظاہر ان کی تحریر کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس صدمہ میں میری غمخواری کریں وہ خط کی ابتداء تو ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ عبد اللہ خاں