تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 350 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 350

تاریخ احمدیت 350 اس سال غیر معمولی طور پر برسات کے شروع میں ہی سیلاب کا زبر دست خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور پنجاب کے سارے دریاؤں میں عدیم المثال طغیانی کے آثار نظر آرہے ہیں۔گزشتہ تجربہ بتاتا ہے کہ ایسے سیلابوں میں جانوں اور مالوں کا بے پناہ نقصان ہوا کرتا ہے۔بے شمار جانیں ضائع جاتی یا زخمی ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں اور بیماروں اور پھر خصوصیت سے غریبوں اور بے سہارا لوگوں پر زد پڑتی ہے۔اور یہی وہ طبقہ ہے جو زیادہ ہمدردی اور زیادہ امداد کا مستحق ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اجناس کے ذخیروں مکانوں اور مکانوں کے سامانوں اور راستوں اور پلوں اور ریلوں اور مویشیوں وغیرہ کے نقصان کا تو کوئی حد و حساب ہی نہیں رہتا۔پس میں تمام مجالس خدام الاحمدیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حسب سابق اس موقعہ پر آگے آئیں اور مخلوق خدا کی خدمت کا ثواب کمائیں۔ڈوبتے ہوؤں کو بچائیں۔ملبہ کے نیچے دبے ہوؤں کو نکالیں۔زخمیوں کو دوائیں مہیا کریں۔بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔شکستہ مکانوں کی مرمت کریں۔مصیبت زدہ لوگوں کو حفاظت کے مقامات تک پہنچائیں اور مویشیوں اور سامانوں کو ضائع ہونے سے بچائیں اور جہاں جہاں حکومت کو یا بے یارو مددگار لوگوں کو کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو ان کی مدد کو فوراً پہنچیں۔اور اس امداد میں مذہب و ملت کا کوئی لحاظ نہ رکھیں۔ہمارا خدا سب کا خالق و مالک ہے۔پس اس کی مخلوق کو جہاں بھی اور جیسی بھی امداد کی ضرورت ہو خدام الاحمدیہ چست بندگان خدا کی طرح لبیک لبیک کہتے ہوئے آگے آجانے چاہئیں۔ومن كان في عون أخيه كان الله في عونه۔خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۶/۷/۵۹ جلد ۲۰ مجالس خدام الاحمدیہ نے اس ولولہ انگیز پیغام پر لبیک کہتے ہوئے خدمتِ خلق کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس کی تفصیلات اخبار الفضل میں موجود ہیں۔۱۴؍ جولائی ۱۹۵۹ء کو ملک احمدی علماء کی سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے ایک ملاقات سیف الرحمن صاحب فاضل (مفتی سلسلہ احمدیہ ) مولوی غلام باری صاحب سیف استاذ جامعہ احمدیہ اور چوہدری عبدالحفیظ