تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 342 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 342

تاریخ احمدیت 342 جلد ۲۰ در ویشان قادیان کا ایک وفد چنڈی گڑھ۔گورنر پنجاب قادیان دارالامان میں میں گورنر پنجاب شری این وی گیڈیکل سے ملا اور انہیں مرکز احمدیت میں آنے کی دعوت دی۔جس پر آپ ۹ ر ا پریل ۱۹۵۹ء کو قادیان تشریف لائے آپ کے ساتھ ملٹری سیکرٹری شری دمو دھر داس صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور، سردار گورچرن سنگھ صاحب ایس پی گورداسپور اور بہت سے افسران تھے۔جناب گورنر صاحب اور دیگر معززین نے بیت اقصیٰ اور بیت مبارک کی زیارت کی اور سلسلہ احمدیہ کے تاریخی حالات دلچسپی سے نے۔بعد ازاں مدرسہ احمدیہ میں صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے جماعت احمد یہ قادیان کی طرف سے ایڈریس دیا۔جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ میں قادیان میں صرف احمدیوں کے پاس آیا ہوں۔اگر مجھے کوئی اور بلاتا تو میں اوروں کے پاس بھی آجاتا۔چونکہ احمدیوں نے مجھے دعوت دی تھی اس لئے میں ان کے پاس آیا ہوں۔میں آریہ سماج کے مندروں میں بھی جاتا ہوں اور دوسرے مذہبی مقامات پر بھی جاتا ہوں۔میں کسی خاص جماعت کا فرد نہیں بلکہ سارے پنجابیوں کا ہوں۔جن میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی وغیرہ سب شامل ہیں۔میں نے اس دفعہ چنڈی گڑھ میں دریافت کیا تھا کہ اگر کوئی مسلمان چنڈی گڑھ میں ہو تو میں اس کی عید کے موقعہ پر دعوت کروں۔پھر مجھے دورہ کے موقعہ پر آنا پڑا۔آئندہ عید پر میں ضرور مسلمانوں کی خوشی میں شریک ہونے کا انتظام کروں گا۔بھارت کے آئین میں سب مذاہب کے لوگ مساوی حقوق رکھتے ہیں اس میں کسی کو چھوٹا یا بڑا نہیں سمجھا جاتا۔انہوں نے سورج اور چاند کی مثال دے کر واضح کیا کہ جس طرح ان کی روشنی اور گرمی بلالحاظ فرقہ و قوم پہنچتی ہے اسی طرح بھارت کے آئین کی فیض رسانی ہندوؤں، مسلمانوں ، سکھوں اور ہریجن سب کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔اگر اب تک ہم اس اصول پر پورے طور پر کار بند نہیں تو بھی ہمیں پوری پوری کوشش ضرور کرنی چاہئے۔“ ایڈریس کے اختتام پر صاحبزادہ صاحب نے انہیں قرآن کریم انگریزی اور سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انگریزی اور دیگر لٹریچر تحفہ پیش کیا جو انہوں نے بخوشی قبول فرمایا۔ایک خادم خلق جناب پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام صاحب کی عظیم قومی خدمت و اکثر فرید بھی صاحب بخش نے فرید آباد چک ۳۳۳ ( ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ) میں اپنی کوشش سے پرائمری سکول جاری کیا تھا جسے سمتبر ۱۹۵۸ء میں انٹرمیڈیٹ کالج کا درجہ دلانے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد انہوں نے