تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 341
تاریخ احمدیت 341 جلد ۲۰ اور اسی وقت کھول کر دیکھنا شروع کر دیا ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ” میں نے اعظم گڑھ والوں کی طرف سے طبع شدہ سیرت النبی کی چھ جلدوں کا مطالعہ کیا ہے ( علامہ شبلی اور علامہ سید سلیمان ندوی کی مرتبہ کردہ) حضرت ابوبکر کے سلسلہ میں آپ نے کہا یہ رتبہ ہر شخص کو حاصل نہیں ہوا کرتا۔اسی دن پراتھنا کی تقریر میں آپ نے انبیاء علیہم السلام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا کہنا ہے کہ لا نفرق بين احد من رسله سب رسولوں نے عالمگیر بھائی چارے کی دعوت دی ہے جسے ماننا چاہئے۔“ بے چارے احمدی خارج از اسلام سہی لیکن یہ بات کتنی قابل قدر بلکہ لائق تقلید ہے کہ جس پیغام کو انہوں نے حق سمجھا ہے اسے پہنچانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے جس مقام پر عارف اور صوفی دم بخود ہیں وہاں یہ بادہ فروش پہنچ رہے ہیں۔“ ۲۸ 66 مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی نے نہ صرف اپنے اخبار صدق جدید (لکھنو ) مجریہ ۱۲ جون ۱۹۵۹ء میں اخبار ”دعوت“ کا مندرجہ بالا نوٹ ہی شائع کیا بلکہ اس کی ۱۹رجون ۱۹۵۹ء کی اشاعت میں ایک تبلیغی خبر“ کے عنوان سے درج ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا : - مشرقی پنجاب کی خبر ہے کہ اچار یہ ونو با بھا وے جب پیدل دورہ کرتے ہوئے وہاں پہنچے تو انہیں ایک وفد نے قرآن مجید کا ترجمہ انگریزی اور سیرت نبوی پر انگریزی کتابیں پیش کیں۔یہ وفد قادیان کی جماعت احمدیہ کا تھا۔خبر پڑھ کر ان سطور کے راقم پر تو جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔اچاریہ جی نے دورہ اودھ کا بھی کیا بلکہ خاص قصبہ دریاباد میں قیام کرتے ہوئے گئے۔لیکن اپنے کو اس قسم کا کوئی تبلیغی تحفہ پیش کرنے کی توفیق نہ ہوئی نہ اپنے کو نہ اپنے کسی ہم مسلک کو ندوی، دیو بندی، تبلیغی ، اسلامی جماعتوں میں ہے! آخر یہ سوچنے کی بات ہے یا نہیں کہ جب بھی کوئی موقع اس قسم کی تبلیقی خدمت کا پیش آتا ہے یہی ” خارج از اسلام جماعت شاہ نکل جاتی ہے اور ہم سب دیندار منہ د دیندار منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں !! ١٢٩