تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 343 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 343

تاریخ احمدیت 343 جلد ۲۰ اسلامیہ غوثیہ کالج میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کا سامان مہیا کرنے کے لئے انگلستان کا رخ کیا جہاں ۲۷ رمئی ۱۹۵۹ء کو وہ ڈاکٹر عبد السلام صاحب کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے محبوب وطن کی اس قومی درسگاہ کی گرانقدر اعانت فرمائی۔چنانچہ واپسی پر ڈاکٹر فرید بخش صاحب نے اخبار ” نوائے وقت“ کے نمائندہ خصوصی کو انٹر ویو دیتے ہوئے بتایا : - میں انگلستان ۱۱ جنوری ۱۹۵۹ء کو پہنچا اور وہاں پہنچتے ہی میں نے محب وطن پاکستانی باشندوں سے اسلامیہ غوثیہ کالج کے نام پر چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کر دی۔اور تین چار ماہ تک سابق حکمرانوں کے وطن میں قریہ قریہ پھرتا رہا۔دریں اثنا بہت سے پاکستانیوں نے میری پہچانوے سال کی عمر میں جواں ہمتی سے متاثر ہو کر میری چندہ کی اپیل پر لبیک کہا ان کے علاوہ برطانیہ کے بعض اخبارات نے بھی میری کوششوں کی تعریف کی۔ان دنوں مجھے کسی نے بتایا اگر میں پاکستانی پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کا تعاون حاصل کرلوں تو سائنس کے سامان کی بہم رسانی کا مسئلہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔چنانچہ میں ۲۷ مئی ۱۹۵۹ء کو رات کے ۹ بجے صبح جھنگ کے چوہدری محمد حسین کے بیٹے ڈاکٹر عبدالسلام پروفیسر لنڈن یونیورسٹی کے مکان پر گیا۔وہاں میں نے اسلامیہ غوثیہ کالج کے لئے تعاون کی درخواست کی تو وہ موم کی طرح پکھل گئے۔فوراً ساڑھے سات پونڈ دے کر انجمن اسلامیہ غوثیہ چک نمبر ۳۳۳ کے لائف ممبر بن گئے اور بعدازاں انہوں نے میرے کالج کے لئے سائنس کا سمان مہیا کرنے کے سلسلہ میں جس جس طریقے سے امداد کی میں اس کی تعریف نہیں کرسکتا۔ان کی وجہ سے پاکستانی ہائی کمیشن کے افسروں نے بھی قابل تعریف حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا۔پاکستان کو ڈاکٹر عبد السلام جیسے سپوت پر ناز کرنا چاہئے۔ایسے بیٹے روز روز پیدا نہیں ہوتے۔میں انگلستان کا پانچ چھ ماہ کا دورہ کرنے کے بعد فخر وانبساط کے جذبات لے کر واپس آیا ہوں۔کالج میں سائنس کی تعلیم کے لئے مطلوبہ سامان خریدا جاچکا ہے۔جو عنقریب چک ۳۳۳ میں پہنچ جائے گا اور پھر