تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 320
تاریخ احمدیت 320 احمدیت رفیق میں سے تھے۔وہ السابقون الاولون میں سے تھے۔اور گویا سلسلہ کی تاریخ کے کسٹوڈین تھے۔انہوں نے بڑی محنت سے سلسلہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح کا مواد جمع کیا اور اس میدان میں بہت اچھا لٹریچر اپنی یادگار چھوڑا ہے۔گو افسوس ہے کہ وہ اسے مکمل نہ کر سکے۔اخبار الحکم بھی ان کا ایک خاص کارنامہ ہے جسے جماعت احمدیہ کا سب سے پہلا اخبار ہونے کا شرف حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اخبار الحکم اور بدر کو اپنے دو باز و فرمایا کرتے تھے۔اس میں شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ان دو اخباروں نے بہت نمایاں بلکہ خاص الخاص خدمت کی توفیق پائی۔حضرت عرفاتی صاحب نے خدا کے فضل سے بہت لمبی عمر پائی مگر باوجود اس کے ان کا قلم آخر عمر تک۔کی خدمت میں مصروف رہا۔اس طرح ان کی وفات گویا جہاد کے میدان میں ہوئی۔وہ ان چاروں ممتاز اصحاب میں سے سب سے آخر میں فوت ہوئے۔احمدیت کے قبول کرنے میں غالباً وہ حضرت مفتی صاحب سے بھی زمانہ کے لحاظ سے پہلے تھے اور صداقت کی تائید میں وہ ایک برہنہ تلوار تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں کی روحوں پر اپنی رحمت کی بارش برسائے اور جنت میں ان کا مقام بلند کرے۔ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے میدان میں جماعت کے لئے ایک بہت عمدہ نمونہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو وہ ہدایت کا مینار ثابت ہوگا۔جماعت کا فرض ہے کہ ان کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے انہیں اپنے لئے مشعلِ راہ بنائے ان میں سے ہر ایک اپنے رنگ میں ایک ستارہ ہے۔اور ہر ایک خاص قسم کے نور کا حامل ہے اور ہر ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک صحبت کے طفیل ایک مقناطیس ہے۔بشرطیکہ جماعت کے نوجوان اپنے اندر مجذوبیت کی صفت پیدا کریں پھر انشاء اللہ وہی ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :- بايهم اقتديتم اهتديتم وما توفيقنا الا بالله العظيم۔خاکسار مرزا بشیر احمد۔لاہور ۶ رفروری ۱۹۵۹ء۔‘‘ جلد ۲۰