تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 312 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 312

تاریخ احمدیت 312 جلد ۲۰ بڑھ کر یہ کہ جدید از ہر کے شیخ الجامع محمد مصطفے المراغی ( ولادت ۱۵ مارچ ۱۸۸۱ ء وفات ۲۱ /اگست ۱۹۴۵ء) نے ۱۹۳۲ء میں ترجمہ قرآن کے خلاف زبردست بحث کی جو بعد ازاں مجلۃ الازہر میں بھی شائع ہوئی از ہر کے ایک مشہور عالم اور مصر یو نیورسٹی قاہرہ کے سابق پروفیسر جناب حسن الاعظمی قرآن کا ترجمہ کے زیر عنوان تحریر فرماتے ہیں ” یہی شیخ مراغی ہیں جو حکومت کے مقابلہ میں ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے اور حکومت کو قرآن کا ترجمہ شائع کرنے سے روکا تھا۔جب مصری حکومت نے زرکثیر صرف کر کے علماء اور مستشرقین کی مدد سے قرآن کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرانا چاہا 66 جامعہ احمدیہ میں ایک مذاکرہ علمیہ ۳ فروری ۱۹۵۹ء کو جماعت احمدیہ کے وو مرکزی تعلیمی ادارہ جامعہ احمد یہ ربوہ میں ایک " مذاکرہ علمیہ کا انعقاد ہوا جس میں ” ضرورت انسانی کے لئے وحی والہام کے تواتر کی ضرورت پر بعض ٹھوس اور پُر مغز مقالے پڑھے گئے اور بحث کے دوران سلسلہ احمدیہ کے جید علماء اور دیگر ذی اہلِ علم احباب نے حصہ لیا۔صدر مذاکرہ سید داؤد احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے مذاکرہ کی غرض و غایت بیان کی اور اس ضمن میں مشہور عیسائی مصنف پروفیسر کینٹ ول سمتھ آف مانٹریال یونیورسٹی کی کتاب ISLAM IN MODERN" HISTORY پر مسلم سن رائز میں شائع شدہ ریویو اور اس پر مبلغ امریکہ مکرم ڈاکٹر خلیل احمد صاحب کے ساتھ ان کی مزید خط و کتاب کا ذکر کیا۔اور بتایا کہ پروفیسر موصوف نے اس خط و کتابت کے دوران اس سوال کو اٹھایا ہے کہ ان کے نزدیک عقلِ انسانی پہلے سے نازل شدہ وحی کی روشنی میں اپنے مخصوص حالات اور ضروریات کے مطابق اپنے لئے نیا مذہب وضع کرنے میں آزاد ہے۔اس لئے مزید کسی وحی یا آسمانی ہدایت کی ضرورت نہیں۔جو وحی پہلے سے کسی کے پاس موجود ہے وہی اس کے لئے کافی ہے۔اس سوال پر بحث کرنے کے لئے ہی یہ مذاکرہ منعقد کیا گیا ہے۔تاکہ اس کے ہر پہلو پر تفصیل کے ساتھ روشنی پڑ سکے۔بعد ازاں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نائب صدر عالمی عدالت انصاف نے مسلم سن رائز میں شائع شدہ ریویو اور مکرم ڈاکٹر خلیل احمد صاحب کے ساتھ پروفیسر کینٹ ول سمتھ کی خط و کتابت کے بعض اقتباسات پڑھ کر سنائے اور بتایا کہ پروفیسر مذکور کا صحیح موقف کیا ہے اور اس کی روشنی میں بحث کا رخ کیا ہونا چاہئے۔بعد ازاں جامعہ احمدیہ کے طلباء میں سے جمیل الرحمن صاحب رفیق ، قاضی نعیم الدین صاحب،