تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 311 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 311

تاریخ احمدیت 311 جلد ۲۰ کالج اور جناب پروفیسر نصیر احمد خان صاحب صدر کالج باسکٹ بال کلب کی گہری دلچسپی اور شبانہ روز مساعی کا نتیجہ تھی۔یہ سالانہ ٹورنامنٹ نہایت با قاعدگی ، دلچپسی اور پر جوش جذ بہ کے ساتھ ۱۹۸۳ ء تک جاری رہا اور اس کی گونج عرصہ تک پورے ملک میں سنائی دیتی رہی۔جرمن ترجمه قرآن احمدیہ جماعت جرمن ترجمہ قرآن پر مجلہ الا زہر کا تبصرہ کی طرف سے ۱۹۵۴ء میں شائع ہوا تھا اور یورپ میں خوب متعارف ہو چکا تھا اب اس کی بازگشت دنیائے عرب میں بھی سنائی دینے لگی۔چنانچہ اس سال الدکتور محمد عبد اللہ قاضی ناظم مدارس دینیہ مصر نے جامع از ہر کے آرگن الا زہر میں ایک شاندار تبصرہ کیا جو شعبان ۱۳۷۸ھ مطابق فروری ۱۹۵۹ء کے پر چہ میں شائع ہوا۔الدکتور محمد عبداللہ صاحب قاضی نے ترجمہ قرآن کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔اما الترجمة نفسها فقد اختبرتها في مواضع مختلفة وفي كثير من الايات في مختلف السور فوجدتها من خير الترجمات التي ظهرت للقرآن الكريم في اسلوب رقيق محتاط، ومحاولة بارعة لاداء المعنى الذى يدل عليه التعبير العربي المنزل لايات القرآن الكريم۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی میں نے مختلف مقامات پر مختلف سورتوں کی متعدد آیات کا ترجمہ بغور دیکھا اور اس ترجمہ کو قرآن مجید کے آج تک شائع شدہ تر جموں میں سے بہترین ترجمہ پایا ہے اس کے ترجمہ میں نہایت باریک بینی اور احتیاط کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور اداء معنی کے لئے انتہائی کاوش سے کام لیا گیا ہے تا کہ عربی میں نازل شدہ قرآنی آیات کی صحیح ترجمانی ہو سکے۔اس جگہ یہ تذکرہ ضروری ہے کہ ۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۶ء تک شام ومصر کے بعض اکابر علماء غیر ملکی زبانوں میں تراجم قرآن کے شدید مخالف تھے۔چنانچہ محمد سعید البانی الدمشقی (۱۸۷۷ء- ۱۹۳۳ء) مفتی عسکر عربی و قاضی شرعی اردن اور استاذ محمد عبدہ کے شاگرد محمد رشید رضا ایڈیٹر المنار (۱۸۶۵ء- ۱۹۳۵ء) نے خصوصی مقالات لکھے جن میں اسلام میں ترجمہ قرآن کے ناجائز ہونے کے با قاعدہ دلائل دیئے۔نیز مصر کے المحكمة الشرعیۃ العلیا کے قاضی الشیخ محمد سلیمان نے خاص اس موضوع پر ایک کتاب ” حادث الاحداث في الاقدام علی ترجمۃ القرآن“ کے نام سے شائع کی اور سب سے