تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 313
تاریخ احمدیت 313 جلد ۲۰ نصیر احمد خان صاحب اور عبد الوہاب بن آدم صاحب آف مغربی افریقہ نے ہدایت انسانی کے لئے وحی و الہام کی ضرورت کے موضوع پر ٹھوس اور پُر مغز مقالے پڑھے۔ان مقالوں کے بعد ایک نہایت مفید اور بصیرت افروز بحث کا آغاز ہوا۔جس میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب، مولانا جلال الدین صاحب شمس، مولوی ابوالعطاء صاحب، قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری، حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب، حضرت مولوی ارجمند خان صاحب ملک سیف الرحمن صاحب، صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب، خلیفہ صلاح الدین صاحب، سید محمود احمد صاحب ناصر، پر و فیسر بشارت الرحمن صاحب، عبدالسلام صاحب اختر، مرزا منصور احمد صاحب اور چوہدری شبیر احمد صاحب نے حصہ لیا۔اور موضوع کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔زرعی پیداوار بڑھانے کی تحریک حضرت مصلح موعودؓ نے ۶ فروری ۱۹۵۹ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ کو اپنی زرعی پیداوار بڑھانے کی پر زور تحریک کی۔چنانچہ فرمایا : - تمام جماعت کو چاہئے کہ زرعی پیداوار بڑھانے کی کوشش کرے۔اس کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ وہ ہر جگہ ایک سیکرٹری زراعت مقرر کرے جو مرکز میں باقاعدہ رپورٹ بھیجا کرے کہ اس کے علاقہ میں کیا کوشش ہو رہی ہے۔کھاد کیسے ڈالی جارہی ہے اور کتنے ہل دیئے جار ہے ہیں؟ اگر محنت اور دیانتداری کے ساتھ کام کیا جائے تو ایک سال کے اندر اندر ہمارے ملک کی حالت درست ہو جائے گی۔اور ہمارے چندے بھی کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔اگر قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہی ہماری فصل پیدا ہو تو گو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس اندازہ سے بھی فضل بڑھا دیتے ہیں مگر نہ بڑھے تب بھی تحریک اور انجمن کی کئی ارب روپیہ کی آمد ہو جاتی ہے۔اور ہماری گورنمنٹ کی آمد تو کئی کھرب ہو جاتی ہے۔مگر ضرورت یہ ہے کہ لوگ تقویٰ سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور جو تجربات سائنس نے کئے ہیں یا جو تجربات ان کے باپ دادوں کے ہیں ان سے وہ فائدہ اٹھائیں تو ان کی اپنی حالت بھی درست ہو جائے گی اور گورنمنٹ کی اقتصادی بدحالی بھی دور ہو جائے گی۔اگر قرآنی اندازہ کے مطابق فصل پیدا ہونے لگ جائے تو سات ایکٹر