تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 290
تاریخ احمدیت 290 جلد ۲۰ 66 کے لوگ احمد یہ مشن کے بے حد شکر گزار ہیں۔“ فری ٹاؤن کے قیام کے دوران جناب سیفی صاحب نے اکثر وقت بڑے بڑے لیڈروں سے ملاقات میں گزارا۔خاص طور پر آپ نے مسلمانوں کو تحریک فرمائی کہ مسلم نو جوانوں کی تعلیم و تربیت اور عیسائیت کے طوفان سے بچانے کے لئے اپنے سکول اور کالج کھولنے پر گورنمنٹ کو توجہ دلائیں۔اس سلسلہ میں آپ کی وزیر اعظم سیرالیون اور دیگر وزراء مملکت سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔اس سال کے آخر میں برٹش پارلیمنٹ کے چار ممبران پر مشتمل ایک خاص وفد سیرالیون کے سیاسی اور ملکی کوائف معلوم کرنے کے لئے یہاں پہنچا جس کے لیڈر کنزرویٹو پارٹی کے ممبر مسٹر این اے پائنل (PANNEL) تھے۔۴ / دسمبر ۱۹۵۸ء کو سیرالیون احمد یہ مشن کی طرف سے خوش آمدید ایڈریس پیش کیا گیا اور دینی لٹریچر اور مشن کے ترجمان اخبار افریقین کریسنٹ کی ایک ایک کاپی بھی پیش کی گئی۔نیز سلسلہ احمدیہ اور احمد یہ مشنوں کے متعلق بعض سوالات کے تسلی بخش جواب دیئے۔مولوی مبارک احمد صاحب ساقی نے وفد کو نائیجیریا کے مسلمانوں اور احمد یہ مشن سے متعلق ضروری معلومات بہم پہنچا ئیں۔وفد جماعت احمد یہ سیرالیون کے سکول کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔اسے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ سکول میں دینیات اور عربی زبان کے ساتھ ساتھ سارے دنیوی مضامین حکومت کے مقررہ کورس کے مطابق پڑھائے جاتے ہیں۔۱۹۸ ۱۹۵۸ء کا وسط جماعت احمد یہ نائیجیریا کے لئے خدا کے فضلوں کا منادی بن کر آیا نا پنجیر یا جب کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ۸۰ افرا د سلسلہ احمدیہ سے وابستہ ہوئے جن میں سے ۵۵ شمالی نائیجیریا کی ایک اہم درسگاہ ٹریڈ سنٹر (TRADE CENTRE) سے تعلق رکھتے تھے۔اسی طرح مغربی نائیجیریا کے تین مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور اس علاقہ کے ایک حج ، دو اساتذہ اور ٹریننگ سنٹر کے ایک درجن کے قریب اساتذہ نے بھی احمدیت قبول کی اور نائیجیریا کے مشرقی علاقہ میں بھی جہاں کیتھولک فرقہ کے عیسائیوں کی اکثریت ہے بعض سعید روحیں داخل احمد بیت ہوئیں۔مشن کا دسواں کامیاب سالانہ جلسہ اپنی مخصوص روایات کے ساتھ ۲۶،۲۵/دسمبر ۱۹۵۸ء کو بیت احمد یہ لیگوس کے احاطہ میں منعقد ہوا جس میں ملک کے طول وعرض سے کثیر تعداد میں احباب نے شرکت کی۔نائیجیرین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے کانفرنس کے انعقاد کی خبر نشر کی۔جناب نسیم سیفی صاحب رئیس التبلیغ مغربی افریقہ و امیر نایجیر یا مشن نے افتتاحی خطاب فرمایا