تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 289
تاریخ احمدیت 289 جلد ۲۰ اجلاسوں میں شامل ہوئے اور کئی بار ایجو کیشن آفیسر جنوب مغربی صوبہ بوکو اور ایجوکیشن سیکرٹری ساؤتھ ویسٹرن پراونس سے ملاقاتیں کیں۔نیز بوشہر برٹش کونسل کے ہال میں اسلامی نظریۂ نجات کے موضوع پر ایک لیکچر دیا جو مسلم اور عیسائی حلقوں میں بہت دلچسپی سے سنا گیا۔دو بار آپ نے عیسائی فرقہ جمو و اوٹنس کے پادریوں سے تبادلہ خیالات کیا۔حاضرین آپ کے دلائل سے بہت متاثر ہوئے۔اس سال کا ایک اہم واقعہ جناب نسیم سیفی صاحب رئیس التبلیغ مغربی افریقہ اور قریشی محمد افضل صاحب کی سیرالیون میں آمد ہے۔آپ ۳۰ / اگست ۱۹۵۸ء کو فری ٹاؤن میں پہنچے ان حضرات کی آمد کی خبر سیرالیون ریڈیو پر تین مرتبہ نشر ہوئی اور ڈیلی میل (DAILY MAIL) میں بھی شائع ہوئی۔آپ نے فری ٹاؤن کے قیام کے دوران تمام بڑے بڑے مسلمان لیڈروں اور وزیروں سے ملاقات کی خصوصاً آپ نے آنریبل مصطفیٰ اور الحاج جبرئیل سیسے سے ( دینِ حق ) کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبود اور دیگر مسائل پر گفتگو کی اور مشورے کئے۔اسی اثناء میں امریکہ سے ایک شامی مسلمان شیخ جواد جو مغربی افریقہ کا دورہ کر رہے تھے آئے۔آپ نے ان سے بھی ملاقات کی اور دونوں نے فری ٹاؤن کے ولیم ولبر فورس میموریل ہال میں مسلمانوں کے ایک جلسہ کے دوران حاضرین سے خطاب کیا اور بتایا کہ اس وقت مسلمانوں کو ایک جگہ متحد ہو کر کام کرنا چاہئے۔جناب سیفی صاحب نے سامعین کو یقین دلایا کہ احمد یہ مشن کی خدمات بلا امتیاز فرقہ و عقا ئد سب مسلمانوں کے لئے حاضر ہیں وہ ہر موقعہ پر احمد یہ مشن کو ہر خدمت بجالانے کے لئے مستعد اور تیار پائیں گے۔آپ کی تقریر کے بعد آنریبل مصطفیٰ سنوسی صاحب نے کہا کہ ” جماعت احمد یہ دنیا میں ( دینِ حق ) کی ترقی اور اس کے غلبہ کی علمبردار ہے اور خاص طور پر سیرالیون میں جماعت احمدیہ نے جو خدمات مسلمانوں میں دینی روح اور تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلہ میں سرانجام دی ہیں ان کی وجہ سے میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ احمد یہ جماعت کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں۔“ آپ نے اپنے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئے میرے پاس آئیں میں بخوشی آپ کی مشکلات کے ازالہ کی کوشش کروں گا اور باوجود احمدی نہ ہونے کے احمد یہ جماعت کی امداد کرنا قابل فخر سمجھتا ہوں۔66 اس کے بعد مسلم ریفارمیشن سوسائٹی کے صدر الحاج جبرائیل نے کہا "سیرالیون کے لوگوں پر جماعت احمدیہ کے لٹریچر کے ذریعہ ہی اسلام کی حقیقت روشن ہوئی ہے اس لئے یہاں