تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 284
تاریخ احمدیت 284 جلد ۲۰ اور آپ کی ان بے مثال اور عظیم خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جو آپ نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے سرانجام دیں اپنے پر خلوص اور تشکرانہ جذبات کا اظہار کیا۔آپ نے قریباً ایک گھنٹہ تک قیام فرمایا اور ڈچ مسلمانوں سے تعارف حاصل کیا۔یہاں کی خبر رساں ایجنسی کے نمائندگان بھی موقع پر موجود تھے جنہوں نے اس نظارہ کو فلمایا اور بیت الذکر کے مختلف مناظر کی تصاویر لیں۔اخبار کے نمائندگان کی طرف سے بیت الذکر کی تصویر کے ساتھ جملہ کارروائی کی خبر شائع ہوئی۔۔191- جرمنی سویڈن کے ایک مشہور علمی رسالہ TIDENS TECKEN کے ایڈیٹر دسمبر ۱۹۵۷ء میں چوہدری عبد اللطیف صاحب انچارج احمد یہ مشن سے انٹرویو کے لئے ہمبرگ گئے۔دو گھنٹے تک تفصیلی گفتگو ہوئی۔یہ انٹرویو یسوع مسیح کے خلاف جنگ کے زیرعنوان SPRING EDITION میں شائع ہوا جس میں جماعت احمدیہ کی دینی مساعی اور ان کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے پوری عیسائی دنیا کو خبردار کیا گیا کہ ( دینِ حق ) میں رونما ہونے والے اس مسیح موعود کا وجود اس کی قائم کردہ جماعت اور اس کے تبلیغی مشن یہ سب چیزیں ہمارے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ان حالات میں ہمیں اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم عیسائیوں میں وہی جذ بہ وہی سچائی اور وہی روح القدس موجود ہے جو ہمارے مسیح کی ابتدائی جماعت میں کارفرما تھا ؟ اگر نہیں تو پھر ہم نے عیسائیت کے مقصد اور اس کی غرض و غایت کو فراموش کر دیا ہے۔بے شک ہمارے گر جے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں اور ہماری جماعتیں اور تنظیمیں جگہ جگہ موجود ہیں لیکن سچائی کی روح کے بغیر ہمارا مذہب ، ہمارے عقائد اور ہماری تنظیمیں سراسر غیر مفید اور بے سود ہیں اور ایک بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ہر چند کہ اس اسلامی جماعت کے مشن عیسائیت کے لئے خطرناک نہیں کہلا سکتے لیکن ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ یہ جماعت ایشیاء، امریکہ، یورپ اور افریقہ میں جارحانہ طور پر عیسائیت پر حملہ آور ہے۔اس کے پیش کردہ دلائل ٹھوس ، مضبوط اور قوی ہیں۔ان حالات میں جب ہم ان نتائج پر غور کرتے ہیں جو اس تبلیغی جد و جہد کے نکل سکتے ہیں تو ہم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔کیا ہم عیسائیوں میں وہ روحانی طاقت موجود ہے جس سے ہم اس جارحانہ تحریک کا مقابلہ کر سکیں۔کیا ہم عیسائیوں پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا کہ ہم اسلام کے اس چیلنج کا اپنے صحیح عقائد دعا اور روح القدس کی برکت سے جواب دینے کے قابل ہوسکیں۔