تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 283 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 283

تاریخ احمدیت 283 جلد ۲۰ میں عیسائیت کے تین مختلف الخیال گروہوں کی نمائندگی کے علاوہ ہندو مذہب بدھ مت اور اسلام کے نمائندوں کو بھی ”موت“ کے متعلق ہمارا نظریہ کے موضوع پر اظہارِ خیالات کی دعوت دی گئی۔حاضری ہزار بارہ سو کے قریب تھی۔جملہ تقاریر ڈچ زبان میں تھیں۔اس کا نفرنس میں حافظ قدرت اللہ صاحب نے واضح کیا کہ دینِ حق کی رو سے موت دوسری زندگی میں داخلہ کے لئے ایک دروازہ ہے۔اس اخروی زندگی میں انسان کو ایک اور نورانی وجود عطا کیا جاتا ہے جس کے ساتھ انسان غیر محدود ترقیات کی طرف قدم بڑھاتا چلا جاتا ہے آپ نے عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ اخروی زندگی کا وجود ہماری موجودہ زندگی کے مقاصد کی تکمیل کے لئے از حد ضروری ہے۔دسمبر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہالینڈ مشن کی شہرت اور تبلیغ کا ایک غیر معمولی اور با برکت موقع پیدا کر دیا اور وہ یہ کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لارڈ میئر پرنس فہد الفیصل ہالینڈ کی سیاحت کے دوران بیت مبارک ہیگ میں بھی تشریف لائے ان کی معیت میں ان کے سیکرٹری اور مشیر خاص کے علاوہ جرمن سعودی عرب ایمبیسی کے نمائندہ ، ڈچ براڈ کاسٹ برائے عرب ممالک کے انچارج اور جمہوریہ عرب کی ایمبیسی کے نمائندہ بھی تھے۔پریس نے قبل از وقت شہزادہ فیصل کی تصویر کے ساتھ یہ خبر ایک بڑے کالم میں شائع کر دی تھی کہ آپ بیت مبارک کی زیارت کے لئے جار ہے ہیں۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور حافظ قدرت اللہ صاحب نے احباب جماعت کے ساتھ پر تپاک استقبال کیا۔بعد ازاں حافظ قدرت اللہ صاحب نے عربی زبان میں ایڈریس پڑھا جس میں شہزادہ موصوف کا خیر مقدم کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ بیان کی اور بتلایا کہ یہ چھوٹی سی غریب جماعت کن مشکل حالات میں بھی خدمت دین کے مقدس فریضہ کو سرانجام دے رہی ہے۔نیز جماعت کی طرف سے غیر زبانوں میں شائع کردہ اسلامی لٹریچر اور تراجم کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خدمت میں قرآن مجید انگریزی اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ تحفہ پیش کیا۔پرنس موصوف معلومات حاصل کر کے جماعت کے کام سے بہت متاثر ہوئے اور فرمایا کہ مشن کی لائبریری کے لئے اگر کچھ کتب کی ضرورت ہو تو میں وطن واپس جا کر ارسال کر سکتا ہوں۔چنانچہ آپ نے سعودی عرب پہنچ کر قریباً ایک سو جلدیں بذریعہ ہوائی جہاز بھجوائیں جو تفسیر طبری، جامع الاصول فی احادیث الرسول، صحیح ابن حیات اور دیگر مختلف کتابوں پر مشتمل تھیں۔شہزادہ فہد الفیصل حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب سے مل کر بہت خوش ہوئے