تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 285
تاریخ احمدیت 285 جلد ۲۰ سویڈن کے علاوہ جرمن پریس میں اس سال کئی بار جماعت احمدیہ کا تذکرہ ہوا۔مثلاً اخبار BRGEDORF کی اشاعت مورخہ ۱۰ر دسمبر ۱۹۵۸ء میں ایک پادری صاحب کی تقریر کا یہ خلاصہ چھپا کہ آج اسلام تلوار اور آگ کے ذریعہ نہیں بلکہ مشنری پراپیگنڈا کے ذریعہ ہمارے درمیان پھیلتا جا رہا ہے۔ہمبرگ میں جماعت احمدیہ نے خدا کا گھر تعمیر کر کے اس کا مزید ثبوت بہم پہنچا دیا ہے۔جماعت احمدیہ کی عورتیں اپنے زیور بیچ کر مردوں کے دوش بدوش اشاعت دین کے کام کے لئے قربانیاں پیش کر رہی ہیں۔اس سال چوہدری عبداللطیف صاحب کو ملک کی متعدد سوسائٹیوں میں دین حق کا پیغام پہنچانے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور ملک کی مختلف شخصیات سے متعارف ہونے اور ان تک لٹریچر پہنچانے کی سعادت ملی۔ایک بار جب آپ نے ہمبرگ کی تھیوسافیکل سوسائٹی کے سامنے اسلامی رواداری کے پہلو کو قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام کے واقعات سے پیش کر کے حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے تو آپ کے خیالات کا اس قدر گہرا اثر تھا کہ ان میں سے قریباً ہر ایک نے فرداً فرداً سپین ۱۹۴ ۱۹۳ آپ کا شکریہ ادا کیا۔ماہ جون ۱۹۵۸ء میں صنعتی نمائش کا انعقاد ہوا۔اس موقع سے مبلغ سپین مولوی کرم الہی صاحب نے خوب فائدہ اٹھایا۔قریباً ایک سو افراد نے لٹریچر لیا۔ہسپانوی، جرمن، ڈچ ، انگریز اور سوس افراد تک پیغام حق پہنچایا۔ایک خاتون نے حضرت خلیفۃ امسیح الاول مولانا نورالدین کا فوٹو دیکھ کر کہا کہ ان کو میں نے خواب میں دیکھا ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ آپ کو سچائی کا پتہ لگ چکا ہے اس لئے آپ کو نورالدین یعنی ( دین حق ) کے بچے نور کو قبول کرنے میں تا خیر نہیں کرنی چاہئے۔فرانس اور سپین کے درمیان ایک چھوٹی سی آزاد ریاست ایڈنرا (ANDANRA) کے پادری صاحب اور ایک نوجوان لٹریچر لے گئے اور خاصی دلچپسی کا۔۱۹۵ اظہار کیا۔اس سال کیتھولک پادریوں کی مزاحمتوں اور پولیس کی مداخلت کے کئی واقعات ہوئے۔میڈرڈ کے مضافات میں جرانجا (GRANGA) ایک گاؤں ہے جہاں آپ قریباً تین ہفتے تک انفرادی تبلیغ کرتے رہے۔ایک روز ہیڈ پادری صاحب نے آپ کو مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ ہمارا ملک سچے مذہب کا پیرو ہے کسی غیر کیتھولک مذہب کو یہاں قانوناً تبلیغ کی اجازت نہیں۔لوگوں کا ایک ہجوم ہو گیا پادری صاحب عوام کو مشتعل کرنے کے لئے کہنے لگے کہ یہ شخص حضرت عیسی اور حضرت مریم کی ہتک کرتا ہے۔مولوی صاحب نے نہایت نرمی سے سمجھانے کی