تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 232 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 232

تاریخ احمدیت 232 جلد ۲۰ اوائل جوانی میں گاؤں کی مسجد کے مقامی مولوی سے قرآن مجید ناظرہ پڑھ لیا تھا اور آخری عمر تک اس کی تلاوت کثرت سے کرتے رہے۔دوسری طرف خدا تعالیٰ کے فضل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان کی برکت سے آپ علم و معرفت میں بہت ترقی کر گئے۔کئی ایک احادیث اور آیات قرآن مجید یاد تھیں۔غیر از جماعت افراد اور ہندوؤں سے بہت بحث مباحثہ کرتے اور احمدیت کی صداقت پر دلائل دیتے۔تبلیغ کے لئے نئے نئے طریقے نکالتے۔۔۔۔۔۔ابھی اپنے بھائیوں کے ساتھ زمیندارہ کرتے تھے۔شادی نہیں ہوئی تھی۔مخالفت زوروں پر تھی۔ادھر پیغام حق پہنچانے کا جذبہ و جنون بھی دل میں موجزن۔۔۔ہمارے علاقہ میں عورتیں کھیتوں میں کام کرنے والے مردوں کے لئے (چاہے سردیوں میں توے کی روٹی ہو خواہ گرمیوں میں تندور کی ) ایک ایک بڑی روٹی پکایا کرتی تھیں۔چنانچہ آپ کی بھی ایک ہی روٹی ہوتی تھی۔آپ اکثر کسی نہ کسی کو تبلیغ کرتے کرتے کھانے پر لے آتے۔جھگڑا ہوتا کہ اب اس کو کہاں سے دیں۔والد صاحب فرماتے ” میری گلی اینہوں دیو چا۔“ یعنی میری روٹی اسے دے دیں۔اسی طرح کا ایک واقعہ ہے کہ آپ کھیت میں اکیلے چارہ کاٹ رہے تھے کہ آپ کے گاؤں میں کسی دردناک گیت ( پنجابی ڈھونے ) کی آواز پڑی۔دیکھا تو ایک عمر رسیدہ شخص گیت گا تا اور روتا جا رہا تھا۔آپ کا دل پسیج گیا ، بلایا، حالات سنے، پوچھا کہاں کا ارادہ ہے۔وہ بولا فلاں پیر کے پاس دعا کے لئے جا رہا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ بابا ایک بات تو بتاؤ کہ جب سورج نکل آئے تو کیا دیئے، بتیاں جلتی رہتی ہیں کہ بجھا دیتے ہیں۔اس نے کہا کہ بجھا دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اب چھوڑو بابا ان دیوں، بتیوں کو۔سورج نکل آیا ہے، امام مہدی آ گیا ہے اسے مان لو تمہارے دکھ دور ہوں گے۔چنانچہ اسے دوسرے دن چنیوٹ لے جانے کی غرض سے اپنے ساتھ کرلیا۔گھر جاتے ہوئے سوچا کہ مخالفت شدید ہوگی، اسے پھسلانے اور گمراہ کرنے کے لئے کوشش ہوگی۔کیا ترکیب ہو۔خدا تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی۔اس بوڑھے کو کہنے لگے کہ دیکھو بابا! میرے گھر والے اور دوسرے لوگ تمہیں مجھ سے بدظن کریں گے اور تمہیں جدا کریں گے۔کئی ایک قسم کی باتیں کریں گے۔تم صرف ایک بات کہنا ” مغلا جو کہندا اے سچ کہندا اے، مغلا جو کہندا اے سچ کہندا اے۔یعنی مغلا جو کہتا ہے سچ کہتا ہے۔آپ نے اس کو اس بات پر اچھی طرح مضبوط کر لیا۔چنانچہ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔لیکن بابا بھی ہر بار یہی کہے کہ ”مغلا جو کہندا اے سچ ر,