تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 231
تاریخ احمدیت 231 جلد ۲۰ سے والد صاحب، والدہ مرحومہ کو بیاہ لائے۔یہ رشتہ کیا با برکت ثابت ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ہم سب پر کیا کیا فضل نازل فرمائے یہ ایک لمبی داستان ہے۔اولاد خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم ایک بہن اور پانچ بھائی ہیں۔بڑے بھائی مرحوم ملک منظور احمد صاحب انور تھے جو مکرم عزیزم رشید احمد صاحب ارشد مبلغ سلسلہ انگلستان کے والد تھے۔عزیزم رشید احمد ارشد صاحب نے جامعہ احمدیہ سے تعلیم پا کر پھر مرکزی ہدایت پر چینی یونیورسٹی سے چینی زبان میں ڈگری لی اور آج کل اسلام آباد ٹلفورڈ ، انگلستان میں مولانا محمد عثمان چاؤ (چینی) کے ساتھ مل کر چینی زبان میں ترجمہ و تالیف کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔خاکسار کے ایک بھائی مکرم منیر احمد صاحب جو سکول کی ملازمت سے ریٹائر ہو چکے ہیں دوسرے بڑے بھائی ملک لطیف احمد صاحب شاد ہیں اور احمد یہ بک ڈپو کراچی کے انچارج ہیں۔سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔سب سے چھوٹا بھائی ڈاکٹر خلیل احمد ناصر PCSIR لیبارٹری کراچی میں سینئر سائنٹیفک آفیسر (Senior Scientific Officer) ہیں۔بڑی بہن کی شادی حضرت عبداللہ سنوری صاحب کے خاندان میں ہوئی۔وہ لاہور میں ہیں۔ان کے بیٹے ڈاکٹر لطیف احمد ٹیچی مان (غانا) میں نصرت جہاں سکیم کے تحت احمد یہ ہسپتال میں قریباً چھ سال گزار کر اب پاکستان واپس جاچکے ہیں۔خاکسار بشیر احمد طاہر مع بیوی بچوں کے خدا تعالیٰ کے فضل سے سوئٹزر لینڈ میں ہے۔الحمد للہ علی ذالک والد صاحب مرحوم جن کے بارہ میں برادری نے اعلان کیا تھا کہ ان کی شادی نہیں ہوگی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اور۔۔۔احمدیت کی برکت سے اتنی اولاد دی کہ اگر اکٹھا کیا جائے تو پورا ایک گاؤں آباد ہو سکتا ہے۔اولاد واحفاد کی تعداد ستر (۷۰) سے اوپر جا رہی ہے۔دوسری طرف والد صاحب کے بھائی بہنیں جو احمدیت کے مخالف تھے ان میں سے میرے ایک چا قتل ہوئے۔دوسرے بغیر شادی کے وفات پاگئے۔بڑے چا کے دو بیٹے تھے لیکن اب کوئی نرینہ اولاد نہیں اور نسل ختم ہو گئی۔والد صاحب کی دو بہنیں تھیں۔ان کی نسل سے بھی کوئی نرینہ اولاد نہ چلی سوائے ایک آدھ کے۔اور ان کی نسل بھی برائے نام ہے۔اس میں بھی عقل اور سمجھ رکھنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ کے بڑے نشان ہیں۔والد صاحب شروع میں عام دینی تعلیم سے نابلد تھے۔ہاں احمدیت قبول کرنے کے بعد