تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 233
تاریخ احمدیت 233 جلد ۲۰ کہندا اے۔‘ گاؤں کے رشتہ دار اور دوسرے لوگ تو تھک گئے کہ مغلے نے خوب پٹی پڑھالی ہے، یہ بابا کسی کی نہیں سنتا۔دوسرے دن چنیوٹ جاتے ہوئے غالباً بازار سناراں میں لوگوں نے پہلے تو بابے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار بابے کے یہ کہنے پر کہ ”مغلا جو کہندا اے سچ کہندا اے ( کہ مغلا جو کہتا ہے سچ کہتا ہے ) اسے زبر دستی والد صاحب سے چھین کر کسی جگہ بند کر دیا اور والد صاحب کو کسی اور جگہ بند کر دیا۔کافی دیر کے بعد الگ الگ وقتوں میں چھوڑا۔والد صاحب نے اسے بہت تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکا۔والد محترم نے اپنے سب بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیا۔میرے دو بڑے بھائی منظور احمد صاحب انور اور لطیف احمد صاحب شاد مڈل تک قادیان میں پڑھے۔ہم تین چھوٹوں کی تعلیم زیادہ تر تعلیم الاسلام ہائی سکول و کالج ربوہ میں ہوئی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے تقسیم ہند کے بعد ہم لاہور میں تھے۔بڑے بھائی منظور احمد صاحب انور حلقہ برانڈرتھ روڈ کے محصل مقرر ہوئے۔چندہ جات کا حساب کتاب کرتے دیکھ کر والد صاحب بہت خوش ہوتے کہ ان کا بیٹا خادم دین ہے۔گھر میں مغرب وعشاء کی نماز باجماعت ہوتی۔جلسہ سالانہ قادیان اور پھر ربوہ جانے کا خاص انتظام کرتے۔ہر سال بطور زائر مشاورت پر جانے کا خاص اہتمام فرماتے۔پگڑی پہنتے تھے۔لباس شلوار قمیص اور سردیوں میں لمبا بڑا کوٹ پہنتے تھے۔۱/۱۰ حصہ کے موصی تھے۔تحریک جدید میں با قاعدہ تھے۔خاکسار نے حضور انور کی مبارک تحریک پر ان کی طرف سے چندہ دینا شروع کیا تھا۔چند سال قبل خیال آیا کہ والد صاحب کا ریکارڈ مرکز سلسلہ سے منگواؤں۔تحریک جدید مرکز یہ سے تفصیل آنے پر خاکسار نے ان کے وعدہ کو بڑھا بڑھا کر ۲۰۰۰ ء تک کل رقم ادا کر دی۔ان کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے وعدہ کی ادائیگی چندہ کا حساب لگایا تو ہم آج ہزاروں لینے والے بھی تناسب سے ابھی ان کی قربانی کی گرد کو بھی نہیں پہنچ پار ہے۔حضور انور رحمہ اللہ نے درست فرمایا تھا کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کے پھل کھا رہے ہیں۔والد صاحب بہت دعا گو تھے۔دنیاوی تعلیم نہ ہونے کے باوجود احمدیت نے ان کے قلب صافی میں نور ہی نور بھر دیا تھا۔پارٹیشن کے بعد مالی حالات بہت ہی مخدوش تھے۔ہماری کاپی پنسل تک کے لئے پیسے نہ ہوتے۔بڑے بھائی لطیف احمد صاحب شاد بیان کرتے ہیں کہ میاں جی (والد صاحب) کو جب کہا جاتا کہ یہ بے بسی و غربت کب ختم ہوگی۔جب آپ کی دعائیں خدا تعالیٰ سنتا ہے تو یہ کیوں دعا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مالی کمزوری دور فرمائے۔وہ مسکرا دیتے اور فرماتے اللہ تعالیٰ کیا کہے گا کہ مانگا بھی تو کیا مانگا۔خدا تعالیٰ تمہیں سب کچھ دے