تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 230
تاریخ احمدیت 230 جلد ۲۰ کام میں گہرائی کی وجہ سے مداخلت پر ناراضگی کا اظہار کیا جس کا مفہوم تھا کہ میں نے تمہارے لئے یہاں رشتے رکھے ہوئے ہیں۔ادھر سے آتے ہو تو رشتہ کی بات ، ادھر سے آتے ہو تو رشتہ کی بات۔والد صاحب سناٹے میں آگئے کہ لو مولوی صاحب بھی خفا ہو گئے۔خاندان کی اذیت و تکلیف پر اس سہارے کا بھرم بھی ٹوٹتا نظر آیا۔دل غم سے بھر گیا اور صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔آنکھوں کے نیر ٹپ ٹپ گرنے لگے۔حضرت مولانا نے جو خاموشی دیکھی تو نگاہ اوپر اٹھائی ، آنسوؤں کا امڈتا ہوا ایک ریلا نظر آیا۔فوراً اٹھے اور والد صاحب کو گدی سے پکڑ کر کمرے میں جائے نماز پر لے گئے کہ جتنا رونا ہے یہاں رولے۔جو کچھ ملے گا یہاں سے ملے گا، میرے پاس کچھ نہیں۔کچھ دنوں کے بعد ملتان سے ایک شخص آئے اور حضرت مولانا راجیکی صاحب سے کہا کہ میری دو بیٹیاں ہیں ایک کی شادی تو بامر مجبوری غیر از جماعت رشتہ داروں میں ہو چکی ہے۔دوسری کی شادی میں چاہتا ہوں کہ احمدی سے ہو۔زندگی کا اعتبار نہیں۔حضرت مولانا نے فرمایا ہاں ہاں ایک زمیندار گھرانے سے ہی نوجوان ہے دیکھ لو۔میرے نانا مرحوم حافظ قرآن تھے اور ادھر ملتان کے کسی نزدیکی گاؤں سے آئے تھے۔نانا جان مرحوم نے کہا کہ نہیں نہیں آپ کو منظور ہے تو مجھے بھی منظور ہے۔یہ میرا پتہ ہے نوجوان کو بھیج دینا۔واپس آکر حضرت نانا جان مرحوم نے گھر کے افراد کو بتا دیا۔افرادِ خانہ (میرے ماموں وغیرہ) ناراض ہو گئے کہ نہ دیکھا نہ بھالا ، نہ انتہ نہ پتہ، زبان دے آئے۔ادھر والد صاحب کے ملنے پر حضرت مولانا راجیکی نے خوشخبری سنائی اور پتہ دے کر لودھراں بھیجا۔قادیان سے واپسی پر تقدیر الہی سے نانا جان جلد ہی فوت ہو گئے۔اس کے بعد اگلے واقعات ماموں جان مرحوم روتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ جب تمہارے والد صاحب آئے تو میں نے زبان، کلچر ، ظاہری طور طریقے دیکھ کر فوراً انکار کر دیا۔اور تمہاری والدہ صاحبہ کو بھی انکار کرنے پر زور دیا اور کئی قسم کے نقص نکالے۔تمہاری والدہ مرحومہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ ایسے ہی ہیں جیسے آپ بیان کرتے ہیں لیکن ایمان تو ہے ناں۔میں ہر گز انکار نہیں کروں گی۔والد صاحب ( خاکسار کے نانا جان مرحوم ) نے جہاں زبان دی ہے میں ہرگز ہرگز اس سے انکار نہیں کروں گی۔چنانچہ شادی کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔ادھر برادری میں والد صاحب نے آکر بتایا تو سب مذاق کریں کہ تمہارے ساتھ کسی نے دل لگی کی ہے۔تمہیں بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔بہر حال حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی معیت میں کل چار افراد کی بارات