تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 220
تاریخ احمدیت 220 جلد ۲۰ میں ان کے گاؤں میں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کے غیر احمدی لوگ حافظ مولوی قطب الدین صاحب ساکن چک میانہ کو جو اس علاقہ میں شہرت رکھتے تھے احمدیوں کو بہکانے کے لئے لائے ہوئے ہیں اور یہ بھی سنا گیا کہ انہوں نے ایک مجلس میں قرآن مجید اور احادیث سے غلط استدلال کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور دلائل کی تردید کی بھی کوشش کی ہے۔خیر جب میں وہاں پہنچا اور لوگوں کو بھی میرے آنے کی اطلاع مل گئی تو ایک اجتماع کی صورت میں مولوی صاحب مذکور سے مباحثہ شروع ہو گیا اس مباحثہ میں جب خدا تعالیٰ نے مولوی صاحب کو کھلی کھلی شکست دی اور ان کے سب دلائل ٹوٹ گئے لوگوں پر خاص اثر ہوا اور چوہدری قطب الدین صاحب اور چوہدری بڑھا صاحب وڑائچ اس وقت احمدی ہو گئے۔“ حیات قدسی حصہ دوم ص ۷۱ - ۷۸ ) خاکسار کے پڑدا دا مکرم چوہدری بڑھے خاں صاحب وڑائچ نے جون ۱۹۰۳ء میں ۶۰ سال کی عمر میں احمدیت قبول کی۔آپ راں برادران کے داماد تھے۔احمدیت قبول کرنے سے قبل آپ نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ قرآن تقسیم کر رہے ہیں تو میں نے بھی ایک قرآن ان سے لے لیا۔یہ ان کے حضرت مسیح موعود کو قبول کرنے کی طرف اشارہ تھا۔چنانچہ قبول احمدیت کے بعد آپ قادیان گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شرف ملاقات حاصل ہوا آپ اپنی ملاقات کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں :- ’ ایک دفعہ میں قادیان آیا۔نئے مہمان خانہ میں چار چار پائیاں نئی تھیں اور ایک پرانی۔حضرت صاحب تشریف لائے اور ایک پرانی اور ٹوٹی ہوئی چار پائی پر بیٹھ گئے۔قریباً چھ سات آدمی اور کھڑے تھے سب کو فر مایا کہ بیٹھ جاؤ۔ہمیں بڑی شرم محسوس ہوئی کہ حضرت صاحب ایک چھوٹی سی چار پائی پر بیٹھ گئے ہیں جو پرانی ہے۔ہم اچھی چارپائیوں پر کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ایک مولوی صاحب نے کہا کہ یوں تو آپ حضرت صاحب کا ادب کر رہے ہیں مگر حضور کے فرمان کا انکار کر رہے ہیں۔اس پر ہم بیٹھ گئے۔میں بالکل حضور کے سامنے بیٹھا تھا۔میرے ساتھ بٹالہ کے ہند و تحصیلدار کا چپڑاسی بیٹھا ہوا تھا۔اس نے مجھے حضور کے آگے سے