تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 221
تاریخ احمدیت 221 جلد ۲۰ ہٹانے کی کوشش کی۔جب دو تین دفعہ اس نے ایسا کیا تو میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔تو اس نے کہا کہ پیچھے تحصیلدار بیٹھا ہے وہ حضور کی زیارت کرنا چاہتا ہے۔میں نے کہا وہ تو بٹالہ سے آئے ہیں اور میں ضلع گجرات سے آیا ہوں۔میں نے جب اونچی آواز سے کہا تو حضور نے فرمایا کہ جس جگہ بیٹھے ہو بیٹھے رہو۔ایک دفعہ ہم یہاں آئے۔طاعون کا ہماری طرف زور تھا۔ہم نے عرض کیا کہ حضور طاعون کا زور ہے۔فرمایا جب کوئی چوہا مرے تو فوراً باہر نکل جانا چاہئے اور کنوئیں پر ڈیرہ لگا لیا کرو۔ہم نے عرض کی کہ حضور باہر کوئی مکان نہیں ہوتا۔فرمایا : - چوتھیوں کی پائلیں بنالیا کرو۔( یعنی عارضی خیمے بنالیا کرو) ہمارے گاؤں کا ایک شخص عمر تھا۔اس کے متعلق مشہور تھا کہ جب کبھی وہ حضرت صاحب کے پاس آتا تھا حضور سے لپٹ جاتا تھا۔ایک دفعہ ہمارے ساتھ بھی آیا۔کوئی ۹۸ بجے کا وقت تھا حضور ( بیت ) مبارک میں تشریف فرما تھے۔ہم حاضر ہوئے تو عمر حضور سے لپٹ گیا۔اور عرض کیا کہ حضور دل چاہتا ہے کہ آپ کو اس طرح اپنے گھر لے جاؤں۔حضور نے زبان سے کچھ نہیں فرمایا مگر اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھے رکھا۔(رجسٹر روایات نمبر ۱۲ ص ۵۴،۵۳) مکرم مرزا خان صاحب ( جو حضرت بڑھے خاں صاحب کے بیٹے اور خاکسار کے والد کے چچا ہیں ) بیان کرتے ہیں کہ چوہدری قطب دین صاحب کے احمدی ہونے کے بعد ان کے سب بھائی بھی احمدیت میں شامل ہو گئے۔حضرت مسیح موعود جب مقدمہ مولوی کرم دین کے سلسلہ میں جہلم تشریف لے گئے تو اس موقعہ پر رجوعہ کے مزید چار افراد مکرم محمد الدین صاحب، مکرم خدا بخش صاحب، مکرم کریم بخش صاحب اور مکرم حسن محمد صاحب زمیندار بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔اس طرح رجوعہ کے گاؤں کا اہم حصہ احمدیت کی آغوش میں آ گیا تو ۲۳ خاندانوں پر مشتمل جماعت قائم ہوگئی۔حضرت چوہدری بڑھے خاں صاحب چونکہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے حتی کہ قرآن مجید ناظرہ بھی نہیں پڑھ سکتے تھے۔احمدیت قبول کرنے سے قبل آپ نے جو خواب دیکھا تھا اس خواب