تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 216 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 216

تاریخ احمدیت 216 بہتری کی صورت نظر نہ آتی تھی۔نا کامی کی صورت میں ناقابل تلافی نقصان تھا۔تب حضرت میاں جی اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کے لئے دعاؤں میں مشغول ہو گئے۔رات آخری پہر کو والد صاحب کو یاد کیا اور حکم دیا کہ جاؤ اسی وقت بور کرانے کا انتظام کراؤ۔وہاں جا کر دیکھا تو ایسا لگا جیسے کبھی کوئی مشکل پیدا ہی نہ ہوئی ہو۔الحمد للہ یہ واقعہ گاؤں کے اکثر غیر از جماعت کے علاوہ مجھے بڑی ہمشیرہ صاحبہ مسٹر ملک غلام نبی صاحب شاہد سابق مبلغ افریقہ نے بھی سنایا تھا۔(۲) محترم چچا جان ڈاکٹر قاضی محمد بشیر صاحب سابق پرنسپل گھٹیالیاں کالج زمانہ طالب علمی میں سمبڑیال سے گاؤں کو ر و وال پیدل رات کو آ رہے تھے۔راستے میں دو ڈاکوؤں نے روک لیا۔چچا جان نے کہا کہ میرے پاس صرف میڈیکل کی چند کتب ہیں جو تمہاری سمجھ اور کام میں نہیں آئیں گی۔البتہ ایک نشتر بھی ہے یہ رکھ لو۔یہ کہہ کر بڑی پھرتی سے نشتر ایک ڈاکو کو دے مارا۔اس کی دلخراش شیخ سے دوسرا بھاگ گیا۔یہ بھی سمجھے اس چاقو نما نشتر لگنے سے مر گیا ہے۔آپ بھی جلد بازی میں نشتر کو وہیں چھوڑ کر گھر بھاگ آئے۔گھر آکر بتایا تو سبھی سخت پریشان ہو گئے۔صبح صبح دیکھا تو چند لوگ کسی کو چار پائی پر ڈالے ہمارے گاوں کی جانب آرہے تھے۔گاؤں کے قریب پہنچے تو ہمارے گھر کی طرف ہی رخ کر لیا۔اب تو افراد خانہ کا سانس بھی بند ہونے لگا۔صرف حضرت میاں جی انتہائی پر اعتماد اور دعاؤں میں مشغول تھے۔ان لوگوں نے آکر بتایا کہ رات کو کسی ڈاکو نے اس نشتر سے حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا۔لہذا بغرض علاج کے لئے میاں کے پاس آئے تھے۔یہ سن کر سب کی جان میں جان آئی۔اور یہ معمہ ہمیشہ خاموش ہی رہا۔حضرت میاں جی نے غیر احمدی علماء کے علاوہ عیسائیوں سے کئی زبانی اور تحریری مناظرے کئے۔اب عیسائیوں یا پادریوں کو صرف اتنا معلوم ہو جائے کہ ہم قاضی صاحب کے خاندان سے ہیں تو وہ نہ تو کوئی بات کرتے ہیں اور نہ ہی بظاہر مخالفت کرتے ہیں۔جس سے سخت فکر ہوتی ہے کہ کوئی حق کی طرف مائل نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ بدستِ دعا ر ہتے ہیں کہ مولا کریم جلد ۲۰