تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 215 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 215

تاریخ احمدیت 215 ضرورت ہے۔حضرت میاں جی کو اس جواب سے سخت صدمہ اور مایوسی ہوئی کہ ایک ہونہار بیٹے کا یہ جواب دین و آخرت سے حقیقتاً دور لے جانے والا تھا۔تب میاں جی نے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر اولاد کی خیر چاہی اور دعا یہ کی کہ اے اللہ میرے بیٹے کو اس دنیوی امتحان میں فیل کر دے۔خدا کی شان جب نتیجہ آیا تو بری طرح ناکام ہو گئے جو حضرت بابا جی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا۔مگر پھر جلد ہی باپ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اگلے امتحان میں خدا قدوس نے دل موڑ دیا۔اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نہ صرف شیدائی و خادم ہو گئے بلکہ اپنی زندگی کا مقصد ہی صرف اور صرف داعی اللہ بن گیا۔جو نہ صرف ہمارے خاندان کی پہچان بن گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی خدمتوں کی توفیق عطا فرمائی۔وقف زندگی کے بعد حضرت بابا جی کے بارے میں کچھ لکھنا یا کہنا حضور ایدہ اللہ سے زیادہ کون جانتا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کو اپنی رحمت و شفقت و قربت میں جگہ عطا فرمائے۔آمین۔یہ واقعہ میری والدہ مرحومہ موصیبہ اور والد صاحب کی زبانی علم ہوا تھا۔جو آپ دادی جان کے پنجابی لفظوں میں کچھ یوں بیان کیا کرتی تھیں۔پیو پتر جہدوں وی چھنگیر تے روٹی کھان واسطے اکٹھے ہوندے وو سان قل پندے سان۔“ یعنی باپ بیٹا جب بھی کھانا کھانے کے لئے اکٹھے ہوتے دینی مسئلہ مسائل میں الجھ پڑتے تھے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کا ہر فرد یقیناً کوئی نہ کوئی معجزہ سے لازمی گزرا ہو گا۔ایسا ہی ایک واقعہ عرض ہے۔حضرت میاں جی بہت دعا گو بزرگ تھے۔اور میرے والد صاحب مرحوم قاضی محمد منیر صاحب کا ذریعہ معاش لوگوں کی زمینوں میں ٹیوب ویل لگا کر زمین سراب کرنے کا تھا۔ایک موقعہ پر دھان ( مونجی ) کی فصل کے دوران اچانک ایک ٹیوب ویل کا بور یعنی پانی آنا بند ہو گیا۔فوری طور پر دوسرا بور کرانا پڑا مگر عین آخر میں لوہے کے پائپ نہ نیچے جائیں اور نہ ہی واپس اوپر آئیں۔کئی روز مسلسل جدو جہد کے بعد بھی کوئی جلد ۲۰