تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 214 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 214

تاریخ احمدیت 214 جلد ۲۰ حضرت حکیم قاضی محمد حسین صاحب ( والد ماجد مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری ) کور و وال تحصیل وضلع سیالکوٹ ولادت ۱۸۸۱ء۔بیعت ۱۹۰۴ ء۔وفات ۶ / دسمبر ۱۹۵۸ء آپ کے والد حضرت شیخ ( قاضی ) نجم الدین صاحب سلسلہ احمدیہ کے قدیم عشاق میں سے تھے جنہیں ۱۸ فروری ۱۸۹۲ء کو مسیح محمدی کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل تھی۔آپ نے ۱۹۰۴ء میں داخل احمدیت ہونے کا شرف پایا۔آپ کے پوتے جناب قاضی مبشر احمد صاحب مقیم عجمان الامارات المتحده ص، ب، ۱۱۹۷) کا تحریری بیان ہے کہ 114 اپنے دادا جان حکیم قاضی محمد حسین صاحب رفیق سیدنا حضرت مسیح الموعود و مهدی الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں عرض ہے۔آپ کو اپنے خاندان میں سب سے پہلے قبولیت احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت اقدس مسیح الموعود و مہدی مسعود علیہ الصلوة والسلام امام الزمان کی شناخت تسلی و تشفی کے بعد آپ داعی الی اللہ کے لئے سب سے پہلے اپنے ہی خاندان کی طرف متوجہ ہوئے۔اور زبر دست جد و جہد کے بعد بفضل تعالیٰ بہت سے اہل خاندان کو ہم خیال بنالیا۔مگر اس سلسلہ میں اپنے بڑے بیٹے حضرت قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائلپوری‘ سے جب بھی بات چیت ہوتی مناظرے کا رنگ اختیار کر لیتی اور یہ سلسلہ کافی مدت تک یونہی چلتا رہا۔دادا جان یعنی میاں جی کو اللہ تعالیٰ نے مسیح الزمان کی شناخت عطا فرمائی تھی اور تایا جان یعنی بابا جی کو اس وقت دنیا وی علم کا گماں تھا۔چنانچہ کوئی بھی ہار ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔اسی دوران حضرت بابا جی کوئی امتحان ( غالباً مولوی فاضل یا عربی فاضل ) دے کر آئے۔حضرت میاں جی نے باباجی کو فرمایا کہ محمد نذیر حضور ایدہ اللہ کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے خط تحریر کر دو۔بابا جی نے جوابا کہا کہ جب مجھے علم ہے کہ امتحان میں کیا کرنا تھا اور میں کیا کر کے آیا ہوں تو خط لکھنے کی کیا