تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 213 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 213

تاریخ احمدیت 213 جلد ۲۰ حضرت مولانا نورالدین صاحب (خلیفہ اسیح الاول) کے علاوہ دس بارہ آدمی اور تھے دوسرے دن جمعہ تھا۔خطبہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھا۔ہم کو صرف دو دن حضور کی مجلس میں رہنے کا اتفاق ہوا اور انہی دو دنوں میں حضور کے اخلاق فاضلہ، شفقت اور میدانِ عمل میں امتیازی شان دیکھی اور حضور کے دعاوی کو سچا پایا۔آپ عرصہ تک جماعت احمد یہ مڈھ رانجھا کے امیر اور پریذیڈنٹ رہے۔دینی لٹریچر اور اخبار الفضل“ کے مطالعہ کا بہت شوق تھا۔آپ کی ذاتی لائبریری بھی تھی۔آپ تہجد گزار اور موصی بزرگ تھے۔مولوی عطاء اللہ صاحب در ویش قادیان آپ کے داماد ہیں۔کئے گئے۔آپ نے اپنی بیوہ کے علاوہ پانچ لڑکیاں یادگار چھوڑیں اور امانتاً مڈھ رانجھا میں دفن۔11۔حضرت قریشی محمد شفیع صاحب بھیروی ( ولادت انداز ۱۸۶۸ء۔بیعت ۱۸۹۴ء۔وفات ۱۶رنومبر ۱۹۵۸ء آپ حضرت خلیفہ اسی الاول کے سگے بھانجے اور حضرت قریشی کامل دین صاحب کے صاحبزادے تھے۔۳۱۳ کے رفقاء کبار کی فہرست میں حضرت مسیح موعود نے آپ کا نام ضمیمہ انجام آتھم صفحه ۴۴ نمبر ۲۵۱ پر درج فرمایا ہے۔آپ میانوالی میں بطور اوورسیئر ملازم تھے اور وہیں بودوباش رکھتے تھے۔آپ بڑے مخلص اور غیور بزرگ تھے۔آپ کا مکان بیت نور بھیرہ کے ساتھ واقع تھا جسے آپ نے جماعت کے نام ہبہ کر دیا۔آپ پر جوش داعی الی اللہ تھے۔ملک منظور حسین صاحب منظور ایم اے ایم او ایل کا چشمدید بیان ہے کہ حضرت قریشی صاحب سر بازار تبلیغ کیا کرتے تھے۔ان کا چہرہ جو سرخ و سفید تھا جوش تبلیغ میں کابلی انار کی طرح چمکنے لگتا تھا۔تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج کی مطبوعہ فہرست میں آپ کا نام صفحہ ۳۸۴ پر درج ہے۔اولاد قریشی احمد شفیع صاحب جنرل مرچنٹ میانوالی قریشی غلام احمد صاحب کلکٹر۔سابق مختار عام صد را انجمن احمد یہ ۱۱۴