تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 200
تاریخ احمدیت 200 جلد ۲۰ اور جماعت کے کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ان کی دعاؤں کا ایک خاص طریقہ یہ تھا کہ لکھ کر دعا کرتے تھے تا کہ دعا کے وقت توجہ قائم رہے۔صاحب کشوف اور رویا بھی تھے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بار بار غور سے پڑھتے تھے۔خطبہ الہامیہ کا اکثر حصہ حفظ کیا ہوا تھا اور بار بار پڑھتے رہتے تھے۔ا اولاد : - مرزا محمد احمد۔مرزا مبارک احمد۔الحاج حضرت خان صاحب منشی برکت علی صاحب شملوی ۸۸ ولادت ۱۸۷۲ء۔بیعت و زیارت ۱۹۰۱ء وفات ۷/اگست ۱۹۵۸ء ) حضرت خان منشی برکت علی صاحب قبول احمدیت کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :- ”جہاں تک مجھے یاد ہے سب سے پہلے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ۱۹۰۰ء کے شروع میں سننے کا اتفاق ہوا جبکہ اتفاقاً مجھے شملہ میں چند احمدی احباب کے پڑوس میں رہنے کا موقع ملا۔ان دوستوں سے قدرتی طور پر حضور کے دعوئی میسحیت اور وفات مسیح ناصری کے متعلق سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا میں اگر چہ بڑی سختی سے ان کی مخالفت کیا کرتا تھا مگر بیہودہ گوئی اور طعن وطنز سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا۔آہستہ آہستہ مجھے خوش اعتقادی پیدا ہو گئی۔حضور کا ان ہی دنوں میں پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ساتھ بھی بحث مباحثہ جاری تھا۔حضور نے اس پر زور دیا کہ مقابلہ میں قرآن شریف کی عربی تفسیر لکھی جاوے۔اور وہ اس طرح کہ بذریعہ قرعہ اندازی کوئی سورۃ لے لی جاوے۔اور فریقین ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھ کر عربی میں تفسیر لکھیں۔کیونکہ قرآن کریم کا دعوی ہے کہ لا يمسه الا المطهرون (الواقعہ: ۸۰) اور ایک کاذب اور مفتری پر اس کے حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے۔اس لئے اس طرح فریقین کا صدق و کذب ظاہر ہو سکتا ہے۔ان ہی ایام میں پیر صاحب کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوا جس میں حضرت مسیح موعود کی طرف چوہیں باتیں منسوب کر کے یہ استدلال کیا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود (نعوذ باللہ ) ملحد اور اسلام سے خارج ہیں۔اس اشتہار میں اکثر جگہ حضور کی تصانیف سے اقتباسات نقل کئے گئے تھے۔میں عموماً ہر فریقین کے اشتہارات دیکھتا رہتا تھا۔مذکورہ بالا اشتہار کے ملنے پر جو غیر احمدیوں نے مجھے دیا تھا میں نے احمدی احباب سے استدعا کی کہ وہ مجھے اصل کتاب لا کر دیں۔تا کہ میں خود مقابلہ کر سکوں۔مقابلہ کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ