تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 199 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 199

تاریخ احمدیت 199 جلد ۲۰ اپنے چھوٹے بھائی مرزا سلطان احمد کو بھی ساتھ لے گئے اور سکول میں داخل کروا دیا۔لیکن ۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ء میں ملازمت سے علیحدگی اختیار کر لی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشورہ سے گوجرہ ضلع لائلپور میونسپل سکول میں ملازمت اختیار کر لی۔جتنا عرصہ وہاں رہے جماعت کے امام الصلوۃ اور پریذیڈنٹ رہے۔جب تک جماعت نے اپنا بیت الذکر تعمیر نہ کر لیا پنجگانہ نماز اور جماعت کے اجلاس وغیرہ آپ کے مکان پر ہوتے رہے۔قادیان کی ابتدائی رہائش میں آپ کے متعدد بچے قادیان میں ہوئے گوجرہ میں تقریباً ۲۰ سال ملازمت کی اور غالباً ۱۹۳۵ء کے قریب ملا زمت سے فارغ ہو کر بمع اہل و عیال واپس قادیان دارالامان پہنچ گئے۔اور بذریعہ تجارت گزارہ کی صورت پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہوئی اور تقریباً ۱۹۴۰ ء یا ۱۹۴۱ء میں قادیان سے پٹی میں اپنی جدی اراضیات پر قبضہ حاصل کر لیا اور علاقہ قصور میں جو اراضیات تھیں وہ اپنے چھوٹے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب کو دے دیں۔اور تقسیم ملک کے بعد پٹی سے سندھ چلے گئے۔قادیان کو مرزا صاحب اپنا وطن سمجھتے تھے اور گوجرہ رہائش کے دوران میں بمع اہل وعیال اکثر قادیان آتے رہتے تھے اور لمبا عرصہ رہائش رکھتے تھے۔پٹی یا قصور نہیں جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے آپ کا خاص تعلق تھا۔اور اکثر حضرت اماں جان کے پاس یا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے پاس رہائش رکھتے تھے۔چنانچہ ۱۹۲۷ء میں جب میری شادی صادقہ بیگم سے ہوئی تو اس وقت آپ بمع اہل و عیال حضرت میاں صاحب کے مکان پر ہی ٹھہرے تھے اور وہیں رخصتا نہ ہوا اور یہ رشتہ بھی حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی کوشش کا نتیجہ تھا۔مرحومہ صادقہ کی پیدائش قادیان میں ہی ہوئی تھی۔یہ گوجرہ جانے سے پہلے کا واقعہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صادقہ مرحومہ کو گڑھتی بھی دی جس کو ہم اپنے خاندان کی خوش نصیبی کے لئے نیک فال سمجھتے ہیں۔جب مرزا محمود بیگ پہلی دفعہ قصور سے قادیان دارالامان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکان پر رہائش تھی۔میری خوش دامن صاحبہ کا نام بھی مبارکہ بیگم تھا چونکہ یہی نام حضرت نواب مبارکہ بیگم کا بھی تھا۔میری خوش دامن کا نام فضل النساء رکھ دیا۔چنانچہ اسی نام سے وہ موسوم رہیں۔جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں مرزا محمود بیگ دن رات کا اکثر حصہ نماز دعا اور نوافل میں گزارتے تھے اور نماز انتہائی گریہ و زاری سے ادا کرتے تھے۔میل ملاقات وسیع نہیں تھا لیکن جب ملتے تھے تو محبت اور انکسار سے ملتے تھے اور حاجت مندوں کی حسب مقدرت امداد کرتے تھے