تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 201
تاریخ احمدیت 201 جلد ۲۰ بعض حوالے کو صحیح تھے مگر اکثر میں انہیں توڑ مروڑ کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔پیر مہر علی شاہ صاحب کے مقابلہ میں تفسیر نویسی کے منظور نہ کرنے پر حضور نے اعجاز امسیح رقم فرمائی اور اس میں چیلنج دیا کہ پیر صاحب اتنے عرصہ میں کے اندر اندر اس کتاب کا جواب تحریر کریں۔پیر صاحب نے عربی میں تو کچھ نہ لکھا گو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اردو میں ایک کتاب لکھی تھی جو بعد میں سرقہ ثابت ہوئی۔۸۹ بہر حال اسی کشمکش میں میری طبیعت سلسلہ عالیہ احمدیہ کی جانب زیادہ مائل ہوتی گئی۔پھر بھی میں نے خیال کیا کہ احادیث کا تو ایک بڑا ذخیرہ ہے۔جس پر عبور کرنا مشکل ہے۔مگر احمدی احباب اکثر قرآن کریم کے حوالہ جات دیتے رہتے ہیں۔اس لئے بہتر ہوگا کہ قرآن کریم کا شروع سے آخر تک بہ نظر غائر مطالعہ کیا جاوے۔چنانچہ گو میں عربی نہ جانتا تھا مگر میں نے ایک اور دوست کے ساتھ مل کر قرآن کریم کا اردو ترجمہ پڑھا اور اس کے مطالعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں ایک دو نہیں ہیں تمہیں نہیں بلکہ متعدد آیات ایسی ہیں جن سے سے وفات مسیح کا استدلال کیا جا سکتا ہے۔۱۹۰۱ء کے شروع میں جبکہ مردم شماری ہونے والی تھی حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں درج تھا کہ جو لوگ مجھ پر دل میں ایمان رکھتے ہیں گو ظاہر ا بیعت نہ کی ہو وہ اپنے آپ کو احمدی لکھوا سکتے ہیں۔اس وقت مجھے اس قدر حسنِ ظن ہو گیا تھا کہ میں تھوڑا بہت چندہ بھی دینے لگ گیا تھا۔اور گو میں نے بیعت نہ کی تھی لیکن مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوا دیا۔مجھے خواب میں ایک روز حضور کی زیارت ہوئی۔صبح قریباً ۴ بجے کا وقت تھا مجھے معلوم ہوا کہ حضور برابر والے احمدیوں کے کمرے میں آئے ہوئے ہیں۔چنانچہ میں بھی حضور سے شرف ملاقات حاصل کرنے کے لئے اس کمرے میں گیا۔اور جا کر السلام علیکم عرض کی۔حضور نے جواب دیا وعلیکم السلام اور فرمایا ” برکت علی تم ہماری طرف کب آؤ گے۔میں نے عرض کی حضرت اب آہی جاؤں گا۔حضور اس وقت چار پائی پر تشریف فرما تھے جسم نگا تھا۔سر کے بال لمبے اور پیٹ کی تو ند ذرا نکلی ہوئی تھی۔اس واقعہ کے چند روز بعد میں نے تحریری بیعت کر لی۔یہ نظارہ مجھے اب تک ایسا ہی یاد ہے جیسا کہ بیداری میں ہوا ہو۔اس کے بعد جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے دارالامان میں حاضر ہو کر دستی بیعت بھی کر لی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ حضور کی شبیہ مبارک بالکل ویسی ہی تھی جیسی کہ میں نے خواب میں دیکھی تھی۔اس کے کچھ عرصہ بعد اتفاقا میں اس مهمانخانہ میں اترا ہوا تھا جس میں اب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ابن