تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 198 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 198

تاریخ احمدیت 198 جلد ۲۰ حضرت مرزا سلطان محمود بیگ صاحب آف قصور ولد مرزا فتح محمد بیگ صاحب ولادت اندازاً ۱۸۸۰ء بیعت ۹۷-۱۸۹۶ء وفات ۱۸ / اپریل ۱۹۵۸ء وو حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب تحریر فرماتے ہیں :- Λ مرزا سلطان محمود بیگ صاحب مرحوم کے والد مولوی مرزا فتح محمد بیگ صاحب عربی کے با قاعدہ تعلیم یافتہ تھے۔آپ پٹی تحصیل قصور ضلع لاہور کے رؤسا اور کرسی نشینوں میں سے تھے اور منصف تھے۔مسلمانوں کی بہتری کے لئے دست کاری پر زیادہ زور دیتے تھے اور اس کے لئے قصور میں ایک باقاعدہ اسکول بھی کھولا ہوا تھا۔ان کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ضلع ہوشیار پور میں بعض با اثر آسوده حال مسلمان راجپوت، عیسائی مشنریوں کے اثر کے ماتحت عیسائیت قبول کر رہے تھے۔اس کو روکنے کے لئے ہوشیار پور کے مسلمانوں نے مولوی مرزا فتح محمد بیگ کو بلوایا۔اور آپ کے جانے سے عیسائیت کی تحریک ناکام ہو گئی۔اس پر مشنری پادریوں نے جو اکثر با اثر انگریز تھے مرزا صاحب مرحوم کے خلاف حکام کے پاس شکایت کی۔چنانچہ حکومت نے مرزا صاحب کو وہابی اور مفسدہ پرداز قرار دے کر گرفتار کر لیا اور مقدمہ چلا کر چند ماہ قید رکھنے کے بعد ضلع بدر کر دیا۔وطن کی واپسی پر مرزا صاحب مرحوم چند دن قادیان میں ٹھہرے اور حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر قصور میں واپس آکر ۱۸۸۷ء میں فوت ہو گئے۔اور آپ کی اولا دکو یتیمی کا زمانہ دیکھنا پڑا۔مرزا سلطان محمود بیگ صاحب سے میری پہلی ملاقات ۱۸۹۶ء میں قصور میں ہوئی۔میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اور مرزا صاحب مجھ سے سات یا آٹھ سال بڑے تھے اور ایک سکول میں پڑھتے تھے اس لئے آپ مجھ سے چھوٹے بھائیوں کی طرح محبت کرتے تھے۔اور ہر قسم کی مدد اور حفاظت کرتے تھے۔کھیل اور سیر و تفریح کے وقت بھی مجھے ساتھ لے جاتے تھے۔مجھے ان کی تاریخ بیعت تو معلوم نہیں غالباً ۱۸۹۶ ء یا ۱۸۹۷ء میں بیعت کر لی تھی۔بیعت کے بعد ان کی طبیعت میں یک لخت ایک غیر معمولی اور نمایاں تغیر نیکی اور دین کی طرف ہوا اور جوانی میں طبیعت دنیاوی امور سے نفرت کرنے لگی۔اور فرض نمازوں کے علاوہ تہجد با قاعدہ شروع کر دی۔میں رات کے وقت اکثر ان کی دعاؤں میں گریہ زاری کی آواز سے جاگ پڑتا تھا۔آپ غالبا ۱۸۹۸ء میں قصور سے میٹرک پاس کر کے قادیان چلے گئے۔وہاں جا کر تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ملازمت اختیار کر لی اور اپنے اہل وعیال کو بھی ساتھ لے گئے اور