تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 196 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 196

تاریخ احمدیت 196 جلد ۲۰ موقعہ ملا۔اس عرصہ میں آپ اپنے محلہ کے ہر قسم کے مقدمات و تنازعات کو نپٹاتے رہے۔اور علاوہ اپنے محلہ کے فرائض سرانجام دینے کے آپ کو دیگر متفرق جماعتی کاموں میں بھی خدمت سلسلہ کے مواقع میسر آئے۔جن کو آپ نے پوری محنت اور کوشش اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ سرانجام دیا۔۱۹۳۷ ء اور ۱۹۴۶ء میں دو دفعہ الیکشن اسمبلی کے موقعہ پر ووٹروں کی فہرستیں تیار کرنے کا کام آپ کے سپرد کیا گیا جس کو آپ نے دن رات ایک کر کے پوری جانفشانی سے کیا۔بٹالہ اور گورداسپور میں عذرداری کی درخواستوں کا کام کیا اور احمدی ووٹروں پر کئے گئے اعتراضات کا جواب دیا۔اور مخالف پارٹی کی غلط تیار کردہ فہرست ووٹروں پر اعتراض کر کے انہیں نامنظور کرایا۔پرا اسی طرح ۱۹۴۱ء میں مردم شماری کے کام میں آپ نے نمایاں خدمات سلسلہ سرانجام دیں۔نیز سال ٹاؤن کمیٹی قادیان کے ووٹروں کی فہرستیں تیار کر وانے میں بھی کافی مدد دی۔۱۹۴۱ء میں جب آپ محلہ دار الفضل کے صدر منتخب ہوئے تو آپ نے علاوہ تربیتی تنظیمی اور اصلاحی کاموں کے ایک نمایاں کام یہ بھی سرانجام دیا کہ محلہ والوں سے تقریباً آٹھ سو روپیہ فراہم کر کے محلہ کی بیت الذکر (جو اس وقت تک ایک کمرہ کی صورت میں تھی ) کی برجیاں مینار اور کی سفیدی کروا دی۔اسی طرح بیت الذکر کو وسعت دینے کے لئے ایک دوست کو تحریک کر کے بیت الذکر سے ملحقہ دس مرلہ زمین مفت حاصل کی۔حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر اپنے محلہ کے غیر موصیوں کے لئے ۱۹۴۳ء میں اہل محلہ سے چندہ اکٹھا کر کے بارہ کنال زمین موضع کھارا میں خرید کی۔نیز آپ نے حضرت اقدس ایدہ اللہ کی منظوری سے محلہ دار الفضل کے لئے برائے لنگر خانہ صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے دو کنال زمین خرید کی۔محترم والد صاحب کی عادت تھی کہ اگر کبھی کوئی بات جماعتی مفاد کے خلاف دیکھتے تو اس کی فوری اصلاح کی کوشش فرماتے اور موجودہ ذمہ دار افسر کو توجہ دلاتے۔اگر کسی اہم امر کے متعلق فوری کارروائی کے لئے معاملہ حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کیا جانا ضروری خیال کرتے تو مفاد سلسلہ کے مدنظر بلا توقف حضرت اقدس مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر فرماتے۔آپ کسی سے ذاتی رنجش دل میں نہ رکھتے تھے۔اگر کسی وقت ناراض بھی ہوتے تو آپ کی ناراضگی بالکل وقتی ہوتی اور جب کچھ وقفہ کے بعد ملتے تو ملنے والا یوں محسوس کرتا