تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 181 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 181

تاریخ احمدیت 181 جلد ۲۰ جن کی بیویاں پردہ چھوڑ رہی ہیں وہ چاہے کتنے ہی معزز ہوں ان سے عدم تعلق کا اظہار کیا جائے اس پر مجھے افریقہ کے ایک پریذیڈنٹ نے رپورٹ کی کہ مجلس میں بعض ایسے لوگ جمع تھے جن کی بیویوں نے پردہ چھوڑا ہوا تھا میں نے ان سے مصافحہ نہیں کیا اس پر وہ ناراض ہو گئے۔میں ہاں نے انہیں لکھا کہ آپ نے جو کچھ کیا درست کیا آپ میرے خطبہ کو صحیح سمجھے ہیں غیر ملکوں میں جہاں پردہ کا رواج نہیں ہے وہاں عدم تعلق کے ساتھ ساتھ سمجھانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فذكر ان نفعت الذكرى یعنی نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ہمیشہ فائدہ بخش ثابت ہوتی رہی ہے۔پس دوسروں پر صرف پریذیڈنٹی کا رعب نہ جماؤ بلکہ اخلاص ، خدمت اور پیار سے انہیں دین کی طرف لاؤ محض رعب سے کام نہیں چلتا بلکہ اخلاص ، خدمت اور پیار سے کام چلتا ہے۔غرض میں نے انہیں لکھا کہ بات تو آپ نے سمجھ لی ہے اور صحیح طور پر سمجھ لی ہے لیکن صحیح استعمال یہی ہے کہ عدم تعلق کے ساتھ ساتھ اخلاص خدمت اور قربانی کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کی جائے۔اس طرح ہماری جماعت میں تنظیم بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پیدا ہوئی ہے جس کے ہمیشہ خوش کن نتائج ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ایک زمانہ میں جب میں جوان تھا قادیان میں مخالفوں کا جلسہ ہوا انہوں نے اپنی تقریروں میں کہا کہ ہم بہشتی مقبرہ پر حملہ کر دیں گے اور احمدیوں کی قبریں کھود دیں گے میں نے حفاظت کے لئے باہر سے آدمی منگوائے ہوئے تھے وہ زمیندار اور ان پڑھ تھے۔رات کو میں یہ دیکھنے کے لئے گیا کہ یہ لوگ کیسا پہرہ دے رہے ہیں میرے ساتھ مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر مرحوم تھے اچانک ایک زمیندار دوڑتا ہوا آیا اور اس نے مجھے کمر سے پکڑ لیا اور کہنے لگا میں آگے نہیں جانے دوں گا۔کچھ دوست کہنے لگے یہ خلیفہ اسیح ہیں وہ کہنے لگا میں نہیں جانتا کہ یہ خلیفتہ المسیح ہیں۔میری ڈیوٹی یہ ہے کہ میں نے اس جگہ سے آگے کسی کو جانے نہیں دینا۔جب تک اس کو پاس ورڈ معلوم نہ ہو یا اس نے ڈیوٹی کا بلا نہ لگایا ہوا ہو۔میں نے ان دوستوں کو جنہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ خلیفہ اصیح ہیں ڈانٹا اور کہا کہ اس شخص نے جو کچھ کیا ہے درست کیا ہے اس کی ڈیوٹی ہی یہی تھی کہ کسی کو آگے نہ گزرنے دے پھر اس پہریدار نے مجھے کہا پاس ورڈ مقرر ہے وہ مجھے بتا ئیں۔خیر اس کا افسر دوڑا ہوا آیا اور اس نے پاس ورڈ بتایا تب پہریدار نے کہا کہ اب آپ اندر جاسکتے ہیں۔میں نے اس شخص کی تعریف کی اور کہا یہ اس قابل ہے کہ اسے انعام دیا جائے۔اس نے بہت اچھا کام کیا ہے تو ڈیوٹی کی ادائیگی اور تنظیم بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں آئی ہے مگر پھر بھی بعض دفعہ لوگ