تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 182
تاریخ احمدیت 182 جلد ۲۰ غلطی کر بیٹھتے ہیں مثلاً آج ہی ملاقات میں میں نے دیکھا ہے کہ باوجود اس کے کہ میں دیر سے جماعت کو سمجھا رہا ہوں کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں اور ضعیف ہو گیا ہوں پھر بھی بعض لوگ اظہار عقیدت کی وجہ سے اپنے گھٹنے میرے آگے ٹیک دیتے ہیں اور مجھے آگے کو کھینچتے ہیں ایک شخص نے تو میرے پاؤں پر اپنا گھٹنہ رکھ دیا جس کی وجہ سے مجھے کوئی دو گھنٹے درد رہی وہ پاؤں گو بیماری سے متاثر نہیں ہے مگر شاید یہ بیماری کا اثر ہے اگر میرے دائیں طرف بھی جو بیماری سے متاثر نہیں ہے چوٹ لگے تو وہ بائیں طرف جو بیماری سے متاثر ہے اثر کر جاتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد میرے لئے ایک قدم چلنا بھی مشکل ہو گیا۔اب بھی بڑی مشکل سے یہاں پہنچا ہوں میری انگلیوں میں کھچاوٹ ہوتی تھی۔اور کانٹے سے چھتے تھے تو ملاقات کے وقت بہت احتیاط کرنی چاہئے۔یہ عقیدت کے اظہار کا طریق نہیں۔میں زجر نہیں کرتا۔مگر شریعت اس کو گستاخی اور بداخلاقی قرار دیتی ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بعض لوگ آتے تھے اور وہ بہت اونچی آواز سے باتیں کرتے تھے قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ بے ادبی ہے اور اس سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔(سورۃ حجرات ع۱) اسی طرح قریب آکر اور گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جانا یہ بھی گستاخی ہے بلکہ ڈر ہے کہ اس کا اثر ایمان پر بھی نہ جا پڑے۔اب میں دعا کر دیتا ہوں دوست بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو بہت بابرکت والا کرے اور ہمارا یہاں جمع ہونا صرف پاکستان کی جماعت کے لئے ہی برکت والا نہ ہو بلکہ ہمارے یہاں جمع ہونے کے نتیجے میں اللہ تعالی امریکہ انگلینڈ اور یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی برکتیں نازل کرے۔۲۷ دسمبر کی تقریریں بیرونی احمدی حضور نے ۲۷ دسمبر کی تقریر میں بیرونی احمدی مشنوں کی دینی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی اور مشنوں کی دینی خدمات کا تذکرہ اس ضمن میں سب سے پہلے فلپائن کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس ملک میں حضرت عثمان کے زمانہ میں مسلمان پہنچے تھے لیکن جب سپین اور پرتگال نے اس پر قبضہ کیا تو عیسائیوں نے مسلمانوں کی گردنوں پر تلوار رکھ کر ان سے بپتسمہ قبول کرایا میری خواہش تھی کہ اس ملک میں دوبارہ دین کی اشاعت کی جائے چنانچہ میں نے تحریک جدید کو اس طرف توجہ دلائی انہوں نے کوشش کی کہ فلپائن میں مبلغ بھجوایا جائے لیکن وہاں کی حکومت نے اس کی اجازت نہ دی۔اس پر انہوں نے یہ تدبیر کی کہ اس ملک میں لٹریچر بھجوانا شروع کیا جس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو احمدیت سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔اس کے بعد ڈاکٹر بدرالدین صاحب