تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 180 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 180

تاریخ احمدیت فصل چهارم 180 جلد ۲۰ جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۵۸ء سے حضرت مصلح موعود کے روح پرور خطاب حسب معمول اس سال بھی جلسہ سالانہ ربوہ ۲۶ / دسمبر سے ۲۸ / دسمبر تک جاری رہا۔قریباً ایک لاکھ کے اس فقید المثال اجتماع سے حضور نے متعد د روح پرور خطابات فرمائے۔حضور انور نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا :- افتتاحی تقریر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو انسان کے لئے ہمیشہ ہی ضروری ہے مگر اس زمانہ میں اس کے فضلوں اور احسانات کو دیکھتے ہوئے اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔میں اب ضعیف اور بوڑھا ہو چکا ہوں۔جوانی کی عمر میں جب میں صرف ۲۶ سال کا تھا مجھے خلیفہ منتخب کیا گیا تھا اور اگر میں زندہ رہا تو جنوری میں میں ۶۹ سال کا ہو جاؤں گا گویا میری خلافت پر ۴۵ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اتنے لمبے عرصہ تک کام کرنے کی توفیق مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ملی ہے لیکن پھر بھی ایک وہ زمانہ تھا کہ جب میں بغیر سوچے سمجھے تقریر کے لئے کھڑا ہو جاتا تھا اور گھنٹوں تقریر کرتا چلا جاتا تھا اور اب میرا خطبہ بعض دفعہ پانچ سات منٹ کا ہوتا ہے بعض دفعہ ۲۰ منٹ کا ہوتا ہے بعض دفعہ ۲۵ منٹ کا ہوتا ہے اور بعض دفعہ آدھ گھنٹے کا ہوتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ورنہ اس عمر میں جو مجھے بیماری کا حملہ ہوا ہے یہ بڑا تکلیف دہ ہے اس کے اثرات کی وجہ سے مجھے یہ وہم ہو گیا تھا کہ بیماری بڑھ رہی ہے مگر جب میں نے یورپ کے اس ڈاکٹر کو لکھا جس نے میرا علاج کیا تھا تو اس نے لکھا کہ بیماری بڑھ نہیں رہی بلکہ یہ ایک اتفاقی امر ہے اور رومائزم یعنی وجع المفاصل کی تکلیف ہے ورنہ یہ درست نہیں کہ آپ کا مرض بڑھ رہا ہے۔مرض جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے مگر اس کے علاوہ عمر کا تقاضا بھی ہوتا ہے۔مغربیت دنیا میں ایسی غالب آچکی ہے کہ خود ہمارے بعض احمدی نوجوان بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔خصوصاً سرکاری عہدوں پر جو لوگ ہیں ان پر بہت زیادہ اثر ہو رہا ہے اور ان میں بعض لوگوں کے اہل خانہ پردہ چھوڑ رہے ہیں۔میں نے پچھلے دنوں اعلان کیا تھا کہ ایسے لوگ