تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 179
تاریخ احمدیت 179 لے کر اقوامِ عالم کو علم و عرفان کے وہ خزانے عطا کرو کہ حجاز اور بغداد اور قرطبہ اور قدس اور مصر کی یادگاریں زندہ ہو جائیں تا دنیا تم پر فخر کرے اور آسمان تم پر رحمت کی بارشیں برسائے اور آنے والی نسلیں تمہاری یاد سے امنگ اور ولولہ حاصل کریں۔اے کاش کہ ایسا ہی ہو۔وآخر دعونا ان الحمد لله رب العالمين۔خاکسار مرزا بشیر احمد۔ربوہ۔۱۸ / دسمبر ۱۹۵۸ء اس کے چند روز بعد آپ کے قلم سے یہ نوٹ شائع ہوا کہ :- ”میرا ایک مضمون الفضل کے جلسہ سالانہ نمبر میں زیر عنوان سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے شائع ہوا ہے۔اپنے اس ہے۔مضمون میں میں نے مثال کے طور پر ستائیس عنوان بھی تجویز کر کے لکھے تھے جن پر آجکل تحقیقی مضامین لکھنے کی ضرورت ہے اب میں ان ستائیس عنوانوں پر ذیل کے عنوانوں کا اضافہ کرتا ہوں۔احباب ان کو سابقہ عنوانوں کے ساتھ درج کر لیں۔یہ زائد عنوان یہ ہیں :- (۲۸) ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت منقولی اور معقولی طریق پر (۲۹) یوم آخر اور بعث بعد الموت (۳۰) جنت و دوزخ کی حقیقت (۳۱) فرشتوں کا وجود اور ان کا کام (۳۲) تناسخ اور اس کے مقابل پر اسلامی تعلیم (۳۳) حضرت مسیح موعود کا کرشن ہونے کا دعویٰ (۳۴) ہندوؤں میں آخری زمانہ میں ایک جگ اوتار کی بعثت کی پیشگوئی (۳۵) حضرت بابا نانک کا روحانی مقام قارئین کرام میرے سابقہ عنوانوں پر مندرجہ بالا آٹھ عنوانوں کا اضافہ فرمالیں مگر یاد رکھیں کہ یہ سب عنوان صرف مثال کے طور پر ہیں اور ان پر حصر نہیں ہونا چاہئے بلکہ وقت اور ماحول کی ضرورت کے مطابق جو مسئلہ بھی سامنے آئے اس کی طرف توجہ دی جائے مگر جو لکھا جائے تحقیقی رنگ میں لکھا جائے۔اور جادلهم بالتی ھی احسن کی آیت مد نظر ر ہے۔خاکسار مرزا بشیر احمد۔۳۱ / دسمبر ۱۹۵۸ء جلد ۲۰