تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 170
تاریخ احمدیت 170 جلد ۲۰ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام برادران بھارت السلام عليكم و رحمة الله و بركاته مجھے افسوس ہے کہ اس سال بھی حکومت ہند نے جماعت احمدیہ کے پاکستانی قافلہ کو قادیان جانے اور اپنے مقدس مقامات کی زیارت کرنے اور جلسہ قادیان میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی۔یہ تیسرا سال ہے کہ بھارت کی حکومت اس بارے میں مسلسل انکار کرتی چلی آرہی ہے۔حالانکہ اس عرصہ میں بعض دوسرے پاکستانی قافلوں کو ہندوستان جانے کی اور بعض ہندوستانی قافلوں کو پاکستان آنے کی اجازت ملتی رہی ہے اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی درستی کے لئے بھی ضروری ہے کہ لوگوں کو باہم میل ملاقات کا موقعہ ملتا رہے تا کہ آپس کی غلط فہمیاں دور ہوں اور اختلافی مسائل کو سمجھنے کے لئے ملک میں بہتر فضاء پیدا ہو۔قادیان جماعت احمدیہ کا دائمی مرکز ہے۔جہاں مقدس بانی احمدیت علیہ السلام پیدا ہوئے۔جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے دن گزارے۔جہاں کی بیوت الذکر میں انہوں نے اپنے خدا کی شب و روز عبادت کی۔جہاں سے انہوں نے ربع صدی تک اپنے مبارک مشن کا پیغام دنیا بھر میں نشر کیا۔جہاں کی مٹی میں وہ فوت ہو کر دفن ہوئے اور ان کا مزار بنا جواب مرجع خلائق ہے۔جہاں ان کی وفات کے بعد خلافت احمدیہ کے دائمی نظام نے جنم لیا اور جہاں ان کے پہلے خلیفہ اپنے محبوب امام کے پہلو میں راحت فرما رہے ہیں۔یہ وہ مقدس یادگاریں ہیں جن کی جڑھ زمین میں ہے اور شاخیں آسمان میں اور بھارت کے دانشمند مد بر کسی صورت میں ان حقائق کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ کوئی دنیوی طاقت ان روحانی نشانوں کو مٹا سکتی ہے۔بھارت کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ ایک لا دینی حکومت ہے اور ایک لادینی حکومت کا فرض اولین ہے کہ وہ نہ صرف سب مذاہب کو ایک نظر سے دیکھے بلکہ اس کے دل کی سختی ہر قسم کے پاک نقوش قبول کرنے کے لئے صاف اور تیار ہو۔میں خیال کرتا ہوں کہ ہمارے بھارتی بھائیوں نے بھارت کی پبلک اور بھارت کے حکمرانوں تک ( دینِ حق ) اور احمدیت کی پرامن تعلیم پہنچانے میں پوری پوری کوشش اور والہانہ جد و جہد سے کام نہیں لیا ورنہ صداقت جو پتھر پر نقش کر سکتی ہے کس طرح ہندو اور سکھ قوم کے دلوں میں گھر کرنے میں اتنی دیر لگا دیتی۔یہ درست ہے، اور یہی سنت الہی ہے کہ آسمان کا پیغام زمین -