تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 171
تاریخ احمدیت 171 جلد ۲۰ پھیلنے میں کچھ وقت لیتا ہے لیکن اب تو ہماری جماعت ستر سال کی عمر کو پہنچ رہی ہے اور ( دین حق ) کا پیغام اس عرصہ میں دنیا کے کناروں تک گونجنے لگ گیا تھا۔مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ یہ پیغام تو تلوار کے زور سے پھیلا مگر محقق جانتے ہیں اور اب تو ساری دنیا اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار ہورہی ہے کہ اسلام کی اشاعت میں دلائل و براہین اور روحانی تاثیرات کا ہاتھ تھا نہ کہ فولادی تلوار کا جو کہ ابتداء میں محض حالات کی مجبوری سے دفاع میں اٹھائی گئی تھی۔ہندوستان ہی کو دیکھو کیا اس ملک میں پٹھانوں یا مغلوں کی حکومت نے اسلام پھیلایا تھا ؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں بلکہ بھارت کے مسلمان حضرت نظام الدین اولیاء اور حضرت معین الدین چشتی اور حضرت بختیار کا کی اور حضرت باقی باللہ اور حضرت احمد سرہندی اور اسی قسم کے دوسرے بہت سے روحانی بزرگوں کے مرہونِ منت ہیں جن کی ضیاء پاشی نے ان کے دلوں کی تاریکی کو روشن کر کے اسلام کے نفوذ کا رستہ کھولا۔یہی ہتھیار اب آپ لوگوں کے ہاتھ میں بھی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تو خدا کا وعدہ بھی ہے ایک وقت آتا ہے کہ بھارت کی ہندو اقوام ”غلام احمد کی جے“ کا نعرہ لگائے گی اور پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا بڑے زور کے ساتھ ( دینِ حق ) کی طرف رجوع ہوگا۔پس میرا پیغام یہی ہے کہ : - بکوشید اے جواناں تابدیں وقت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور ہمارے ساتھ بھی اور ہر اس انسان کے ساتھ جو صداقت کا متلاشی ہے۔ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العظیم۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ۔مقررین ۱۰/اکتوبر ۱۹۵۸ء اس جلسہ سے مندرجہ ذیل مقررین نے خطاب فرمایا : - ۱ - حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ فاضل امیر جماعت احمد یہ بھارت ۲- صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب -۳ - مولانا شریف احمد صاحب امینی ( مبلغ مدراس) ۴ - مولانا بشیر احمد صاحب فاضل ( مبلغ دہلی - چوہدری مبارک علی صاحب ( مبلغ بنگلور ) ۶ - مولوی سمیع اللہ صاحب ( مبلغ بمبئی) ۷- مولوی محمد حفیظ صاحب (ایڈیٹر بد) - مولانا محمد سلیم صاحب ( مبلغ کلکتہ ) ۹ - مولانا شیخ مبارک احمد صاحب (رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ ) 9 -