تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 156
تاریخ احمدیت 156 جلد ۲۰ تقریر کر چکا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کے یہ معنے نہیں کہ یہ احمدیت کے خادم ہیں بلکہ احمد یوں میں سے بنی نوع انسان کے یہ خادم ہیں۔اس اپنی تقریر کو میں پھر یاد دلاتا ہوں اور کراچی کے خدام سے کہتا ہوں کہ وہ پاکستان کے مرکز میں بستے ہیں جہاں تمام دنیا کے آدمی آتے ہیں اور جہاں خدمت کا بہترین موقع ان کو مل سکتا ہے۔وہ اس طرف توجہ کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو یا درکھیں کہ سچا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔خالی مسلمان کہلانے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ اصل مسلمان وہ ہے جو دنیا کو امن بخشے۔پس دنیا کو امن بخشنے کی کوشش کریں۔لڑائی جھگڑوں سے بچیں۔بغیر کسی مذہب اور ملت کا خیال کئے ہر مذہب وملت کے آدمیوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔خاکسار مرزا محموداحمد خلیفة المسیح الثانی) ۱۵۷ سالانہ اجتماع انصار الله ۱۹۵۸ء سے اس سال مجلس انصار اللہ مرکز یہ کا چوتھا سالانہ اجتماع ۳۱ /اکتوبر، یکم نومبر ،۲ /نومبر ۱۹۵۸ء کو حضرت مصلح موعود کا ایمان افروز خطاب منعقد ہوا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اجتماع کرنا کے دوسرے روز حسب ذیل ایمان افروز خطاب فرمایا : " آج انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کی تقریب ہے۔میں اس موقعہ پر آپ سے دو باتیں کہنی چاہتا ہوں ایک تو میں اس بارہ میں آپ سے خطاب چاہتا ہوں کہ آپ اپنے فرائض کی طرف توجہ کریں۔آپ کا نام انصار اللہ سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔پندرہ سے چالیس سال کی عمر کا زمانہ جوانی اور امنگ کا زمانہ ہوتا ہے اس لئے اس عمر کے افراد کا نام خدام الاحمدیہ رکھا گیا ہے تا کہ وہ خدمت خلق کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور چالیس سال سے اوپر عمر والوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے اس عمر میں انسان اپنے کاموں میں استحکام پیدا کر لیتا ہے۔اور اگر وہ کہیں ملا زم ہو تو اپنی ملازمت میں ترقی حاصل کر لیتا ہے اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے سرمایہ سے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکے۔پس آپ کا نام