تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 155 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 155

تاریخ احمدیت وو 155 ” مجھے یوگنڈا کے ایک نہایت ذمہ دار باشندے نے بتایا ہے کہ جونہی یہاں حکومت خود اختیاری کا قیام عمل میں آ جائے گا تو لوگ اس خیال کے پیش نظر کہ چرچ ایک غیر ملکی ادارہ ہے اور شادی کے ایک ایسے نظریہ کا حامل ہے جو اہل یوگنڈا کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے چرچ کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔میں نہیں جانتا کہ یہ بات درست ہے یا نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ گزشتہ دو سال سے یوگنڈا میں قدیم عقائد کی طرف عود کرنے کا میلان بڑھ رہا ہے اور شادی کے مسیحی نظریات اور بالعموم خود مسیحیت کے خلاف حملے کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔یوگنڈا میں ایسے چیفس پہلے ہی بہت کم ہیں کہ جنہیں چرچ کا سرگرم رکن شمار کیا جا سکے۔اس کے نتیجے میں یوگنڈا میں چرچ کی آمد میں بہت کمی واقع ہوگئی ہے۔یہ ہے وہ بیان جو یوگنڈا کے بشپ رائٹ ریورنڈیسلی براؤن نے ۸/جنوری ۱۹۵۸ء کو نامی ریمبے کیتھڈرل میں اینگلیکن چرچ کی علاقائی کانفرنس میں دیا۔“ جلد ۲۰ حکومت کی طرف سے زائد مالی امداد کی پیشکش کے باوجود ، مینگوی ایم ایس ہسپتال داخل ہونے والے مریضوں کے لئے موجودہ گنجائش میں دو تہائی کمی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔اسی طرح وہ عام طبی خدمات اور نرسوں کی تربیت کے کام سے بھی دستبردار ہو رہا ہے۔اس امر کا اعلان یوگنڈا کی علاقائی کانفرنس میں ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آر بلنگٹن نے کیا۔یوگنڈا آرگس ۱۱؍ جنوری ۱۹۵۸ء) حضرت مصلح موعود کا پیغام خدام الاحمدیہ کراچی کے نام مجلس خدام الاحمدیہ کراچی نے اپنے سالانہ اجتماع ( منعقدہ ۲۶، ۲۷، ۲۸ ستمبر ۱۹۵۸ء) کے لئے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیغام عطا فرمانے کی درخواست کی تھی جس پر حضور نے مندرجہ ذیل پیغام تحریر فرمایا جسے مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب قائد مجلس کراچی نے اجتماع میں پڑھ کر سنایا : - خدام الاحمدیہ کراچی کی طرف سے درخواست کی گئی ہے کہ میں ان کے سالانہ جلسہ کے لئے کوئی پیغام بھیجوں۔خدام الاحمدیہ کو ایک ہی پیغام ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں اور بنی نوع انسان کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔میں مرکزی خدام الاحمدیہ کے ایک سالانہ جلسہ میں یہ