تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 135
تاریخ احمدیت 135 احسن انتظام فرما دے یا ہماری ہمشیرہ کے لئے ہی ربوہ میں آکر خیر وخوبی کے ساتھ آباد ہونے کا رستہ کھل جائے۔۔اس موقعہ پر بے شمار بھائیوں اور بہنوں نے دلی محبت اور قلبی ہمدردی کے ساتھ تعزیت کے پیغامات بھجوائے ہیں جو تاروں اور خطوں اور ٹیلیفون کے ذریعہ پہنچے ہیں اور پہنچ رہے ہیں۔ان پیغامات کے بھجوانے والوں میں کافی تعداد غیر احمدی اصحاب کی بھی ہے اسی طرح بہت سے اداروں کی طرف سے بھی ہمدردی کے ریزولیوشن پہنچ رہے ہیں۔ان سب کے لئے ہمارے دلوں میں مخلصانہ شکریہ کے جذبات جاگزین ہیں۔حقیقتا ایسے موقعہ پر دوستوں اور عزیزوں اور ہمدردوں کے محبت کے پیغامات انسان کے لئے بڑے سہارے کا موجب ہوتے ہیں۔گو اصل سہارا بہر حال خدا کا ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں اور بہنوں کو جزائے خیر دے اور سب کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے اور سب کا حافظ و ناصر ہو اور جس طرح انہوں نے ہمارے غم کا بوجھ بانٹا ہے اللہ تعالیٰ ان کے بوجھوں کو دور فرمائے۔آمین یا ارحم الراحمین۔خاکسار جلد ۲۰ مرزا بشیر احمد۔ربوہ۔۴ را گست ۱۹۵۸ء سلسلہ میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ایڈیٹر صاحب الفضل کے نام حسب ذیل مکتوب تحریر فرمایا جو الفضل ۱۳ اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۳ پر شائع ہوا: - ข بھابی جان اُمم ناصر مرحومه سوات سٹیٹ ہوٹل۔سید و شریف۔سوات ۱۴ را گست ۱۹۵۸ء برادرم ایڈیٹر صاحب الفضل السلام علیکم۔بھابی جان ام ناصر مرحومہ کی وفات کا اس قدر دل پر اثر ہے کہ ابھی کچھ لکھنا بھی مشکل ہے۔ان کی شادی غالباً ۱۹۰۲ء کے آخر یا ۱۹۰۳ء کے شروع میں ہوئی ہوگی۔