تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 134 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 134

تاریخ احمدیت۔134 وجود سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچی اور ان کا وجود ساری عمر اسی نوع کی معصومیت کا مرکز بنا رہا۔نیکی اور تقویٰ میں بھی مرحومہ کا مقام بہت بلند تھا۔غالبا یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ سیدہ امِ ناصر احمد صاحبہ کو جو جیب خرچ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی طرف سے ملتا اسے وہ سب کا سب چندہ میں دے دیتی تھیں اور اولین موصیوں میں سے بھی تھیں۔جب تک روزوں کی طاقت رہی روزے رکھے اور بعد میں بہت التزام کے ساتھ فدیہ ادا کرتی رہیں۔یہ انہی کی نیک تربیت کا اثر تھا کہ ان کی اولا د خدا کے فضل سے نمازوں اور دعاؤں میں خاص شغف رکھتی ہے۔سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ کو یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ عرصہ دراز تک لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی صدر رہیں۔حضرت ام ناصر احمد صاحبہ کی وفات کے نتیجہ میں احباب جماعت کو اس وقت خاص طور پر چار دعاؤں پر بہت زور دینا چاہئے۔(اول) یہ کہ حضرت صاحب کی طبیعت پر ان کی وفات کا کوئی ایسا اثر نہ پڑے جو حضور کی بیماری اور تکلیف میں اضافہ کرنے کا موجب ہو۔(دوسرے ) یہ کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی اولاد کا حافظ و ناصر ہوخصوصاً عزیز رفیق احمد کا جو اس وقت بہت غم زدہ اور مضمحل ہے۔(تیسرے) یہ کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نماز جنازہ میں بہت لطیف دعا سکھائی ہے جماعت ہماری بھاوجہ مرحومہ کے نیک اعمال کے اجر سے محروم نہ ہونے پائے۔( چوتھے ) یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ربوہ میں خواتین کے لئے کوئی ایسا وجود پیدا کر دے جو اپنے اندر مرکزیت کا مقام رکھتا ہوتا کہ احمدی مستورات اسے مل کر اپنے دلوں میں روحانی راحت پائیں اور اپنے مسائل میں مشورہ حاصل کر کے سکون حاصل کر سکیں۔ہماری دوسری بھاوج سیده ام متین صاحبہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی خدمت میں قابل رشک انہماک رکھتی ہیں اور ایک طرح سے خط و کتاب کے کام میں حضرت صاحب کی گویا پرائیویٹ سیکرٹری بھی ہیں۔مگر طبعا انہیں مستورات سے ملاقات کرنے کے لئے بہت کم وقت ملتا ہے اور پھر طبائع کی مناسبت بھی جدا گانہ ہوتی ہے۔اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ جو بات میں نے فقرہ نمبر چہارم کے ماتحت لکھی ہے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اس کا کوئی جلد ۲۰