تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 113
تاریخ احمدیت 113 جلد ۲۰ حضرت خلیفہ صلی الثانی ایدہ اللہ بصرہ کی بھی اس مسودہ میں درج ہیں۔اسی طرح اس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی بعض دستخطی تحریر میں بھی شامل ہیں اور اس قرعہ کے کاغذات بھی اسی مسل میں ہیں جو حضرت اماں جان۔۔۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاں ہم تین بھائیوں میں تقسیم ہوئی تھیں۔فقط والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ۔۱۵؍جون ۱۹۵۸ء ار جولائی ۱۹۵۸ء کو حضرت مصلح موعود نے نوجوانانِ احمدیت کو استیصال عیسائیت نوجوانانِ احمدیت کو متوجہ فرمایا کہ کے لئے سرگرم عمل ہونے کی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقصد بعثت کسر صلیب ہے لہذا ان کا فرض ہے کہ وہ استیصال عیسائیت کے لئے پوری دنیا میں سرگرم عمل ہو جائیں۔چنانچہ حضور نے اسی روز مری میں ایک ولولہ انگیز خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ”ہماری جماعت کے نوجوانوں کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں بارہا تحریر فرمایا ہے کہ مجھے خدا نے عیسائیت کے استیصال کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور یہ کام صرف آپ کی ذات کے ساتھ مخصوص نہیں تھا بلکہ آپ کے سپر د اس عظیم الشان کام کے کرنے کے یہ معنی تھے کہ آپ کے بعد آپ کی جماعت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ اس کام کو سنبھالے اور عیسائیت کو مٹانے کی کوشش کرے چنانچہ آپ لوگوں میں سے ہی کچھ نو جوان افریقہ گئے اور وہاں انہوں نے عیسائیت کے خلاف ایسی جدو جہد کی کہ یا تو ایک زمانہ ایسا تھا جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ سارا افریقہ عیسائی ہو جائے گا اور یا آج ہی ایک اخبار میں میں نے ایک انگریز خاتون کا مضمون پڑھا جس میں اس نے لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعے ( دینِ حق ) افریقہ میں بڑی سرعت سے پھیل رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ جماعت جو پہلے پہل ٹا نگانیکا میں پھیلنی شروع ہوئی تھی اب مشرقی افریقہ کے اکثر علاقوں میں پھیلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔(سنڈے ٹائمنر لنڈن ۲۵ مئی ۱۹۵۸ء)۔۔۔۔۔۔یه تبلیغ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغوں کی وجہ سے ہی ہو رہی ہے۔۱۹۲۷ء میں ہم نے وہاں مشن قائم کئے تھے جن پر اب اکتیس سال کا عرصہ گزر رہا ہے۔اس عرصہ میں خدا تعالیٰ