تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 112
تاریخ احمدیت 112 بھی نمایاں ہو کر ظاہر ہو گی۔بہر حال جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں اس کتاب کے تین حصے شائع ہو چکے ہیں اور ان کے علاوہ میرے پاس دو مزید حصوں کا مواد موجود تھا اور ان بقیہ حصوں کے مسودوں میں بھی خدا کے فضل سے کئی قیمتی روایات درج ہیں جن میں سے زیادہ نمایاں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب۔۔۔۔۔اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی مرحوم۔۔۔وغیرہ کی روایات ہیں۔اور چونکہ اب میری صحت خراب رہتی ہے اور زندگی کا اعتبار نہیں اس لئے میں نے ان دونوں حصوں کے مسودے میر مسعود احمد فاضل پسر حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کے سپرد کر دیئے ہیں اور انہیں سمجھا دیا ہے کہ اگر اور جب انہیں ان حصوں کو مدون کر کے شائع کرنے کا موقع ملے تو نہ صرف روایات کو عقل ونقل کے طریق پر اچھی طرح چیک کر کے درج کریں بلکہ جہاں جہاں تشریح کی ضرورت ہو وہاں تشریحی نوٹ بھی ساتھ دے دیں۔اسی طرح اگر سابقہ تین حصوں میں کوئی غلطی رہ گئی ہو یا کوئی روایت قابل تشریح نظر آئے تو سابقہ روایت کا حوالہ دے کر اس کی بھی تشریح کر دیں۔اور میں نے انہیں تاکید کر دی ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے مخالفوں کی گندی ذہنیت کے پیش نظر اصول یہ مد نظر رکھیں کہ کسی کمزور یا لاتعلق روایت کو تشریح کے ساتھ درج کرنے کی بجائے بہتر یہ ہے کہ اسے بالکل ہی ترک کر دیا جائے تا کہ کمزور حدیثوں کی طرح یہ روایتیں فائدہ کی بجائے نقصان کا موجب نہ بن جائیں۔میں نے یہ تلخ سبق اپنے زمانہ کے مخالفین کی ناپاک اور پست ذہنیت سے سیکھا ہے۔ہاں یاد آیا کہ حصہ چہارم اور حصہ پنجم کے مسودے میں حضرت خلیفہ اول۔۔۔۔کی اس وصیت کا اصل کا غذ بھی شامل ہے جو حضور نے اپنی مرض الموت میں آئندہ خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں تحریر فرمائی تھی اور پھر اسے مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے مرحوم سے پڑھوا کر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب مرحوم کے سپر د کر دیا تھا اور اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم کے دستخط بھی ثبت ہیں۔اسی طرح بعض روایات حضرت اماں جان نوراللہ مرقدہا اور بعض جلد ۲۰