تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 111
تاریخ احمدیت 111 جلد ۲۰ جنگِ جمل میں آپ نے اونٹ پر بیٹھ کر سارے لشکر کی کمان کی تھی۔پس یہ تمام چیزیں جائز ہیں جو منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط نہ کرے۔ہاں اگر وہ گھونگھٹ نکال لے اور آنکھ سے رستہ وغیرہ دیکھے تو یہ جائز ہے لیکن منہ سے کپڑا اٹھا دینا یا مکسڈ پارٹیوں میں جانا جبکہ ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں یہ ناجائز ہے۔" الفضل ۲۷ جون ۱۹۵۸ء صفحه ۵،۴) کے قلم سے الفضل ۱۸؍جون ۱۹۵۸ء میں مسودہ سیرت المہدی حصہ چہارم و پنجم کے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وصیت حسب ذیل اعلان سپرد اشاعت ہوا:۔” میری کتاب سیرۃ المہدی حصہ اول و دوم وسوم ایک عرصہ سے چھپ کر احباب جماعت کے سامنے آچکی ہے۔یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت و سوانح کے متعلق خدا کے فضل سے کثیر التعداد وعمدہ روایات اور مفید مواد پر مشتمل ہے۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اس کے مواد کا معتد بہ حصہ ایسا ہے جو صرف اسی کے ذریعہ محفوظ ہوا ہے ورنہ وہ غالباً ضائع ہو جاتا۔چنانچہ حضرت اماں جان اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب۔۔۔۔۔اور حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت منشی محمد عبداللہ صاحب سنوریؒ اور حضرت میر عنایت علی صاحب مرحوم اور کئی دوسرے اصحاب کی اکثر روایات ایسی ہیں جو سیرت المہدی کے سوا کسی اور اشاعت میں شائع نہیں ہوئیں۔اور گو بعض روایات پر گندی فطرت کے مخالفین نے اعتراض کیا ہے اور انہیں غلط رنگ دے کر سادہ طبع غیر احمدیوں کو دھوکا دینا چاہا ہے اور بالکل ممکن ہے کہ بعض روایات میں راویوں کے حافظہ یا سمجھ کی وجہ سے کوئی غلطی بھی ہو گئی ہو کیونکہ حدیث کی طرح ہر زبانی روایت میں یہ دونوں باتیں ممکن ہیں مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ بحیثیت مجموعی سیرۃ المہدی نے تاریخی میدان میں سلسلہ احمدیہ کی عمده خدمت سر انجام دی ہے جس کی قدر و منزلت انشاء اللہ آگے چل کر اور