تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 110
تاریخ احمدیت 110 اعتراض کریں گے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ میں نے کہا کہ جب آپ کے دل میں ایک اعتراض پید ہوا ہے تو آپ خود حضرت صاحب سے اس کا ذکر کریں میں تو نہیں جاتا آخر وہ خود ہی چلے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد آئے تو انہوں نے سر نیچے ڈالا ہوا تھا۔میں نے کہا مولوی صاحب کہہ آئے ؟ کہنے لگے ہاں میں نے کہا تھا کہ یہ مناسب نہیں۔کل ہی سارے اخبارات میں یہ بات چھپ جائے گی اور مخالف اعتراض کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سنا تو آپ نے فرمایا مولوی صاحب وہ کیا لکھیں گے؟ کیا یہ لکھیں کہ مرزا قادیانی اپنی بیوی کو ساتھ لے کر ٹہل رہا تھا اور اگر وہ یہ بات لکھیں تو اس میں ڈرنے کی کون سی بات ہے۔غرض اس وقت پردہ میں اتنی شدت تھی کہ اپنی بیویوں کو بھی ساتھ لے کر پھرنا لوگوں کی نگاہ میں معیوب سمجھا جاتا تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔آپ آخری دنوں میں جب لاہور میں مقیم تھے تو باقاعدہ حضرت اماں جان کو ساتھ لے کر سیر کیا کرتے تھے۔آپ چونکہ خود بھی بیمار تھے اور اعصاب کی تکلیف تھی اور حضرت اماں جان بھی بیمار رہتی تھیں اس لئے جب تک آپ لاہور میں رہے روزانہ فٹن میں بیٹھ کر آپ سیر کے لئے تشریف لے جاتے اور حضرت اماں جان بھی آپ کے ساتھ ہوتیں۔قادیان میں بھی یہی کیفیت تھی۔حضرت اماں جان ہمیشہ سیر کے لئے جاتی تھیں اور ان کے ساتھ ان کی سہیلیاں وغیرہ بھی ہوا کرتی تھیں۔پس پردہ کے یہ معنے نہیں کہ عورتوں کو گھروں میں بند کر کے بٹھا دو۔وہ سیر وغیرہ کے لئے جاسکتی ہیں۔ہاں گھروں کے قہقہے سنے منع ہیں۔لیکن اگر دوسروں سے وہ کوئی ضروری بات کریں تو یہ جائز ہے مثلاً اگر وہ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیں تو بے شک کریں یا فرض کرو کوئی مقدمہ ہو گیا ہے اور عورت کسی وکیل سے بات کرنا چاہتی ہے تو بے شک کرے۔اسی طرح اگر کسی جلسہ میں کوئی ایسی تقریر کرنی پڑے جو مرد نہیں کر سکتا تو عورت بھی تقریر کر سکتی ہے۔حضرت عائشہ کے متعلق تو یہاں تک ثابت ہے کہ آپ مردوں کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنایا کرتی تھیں بلکہ خود لڑائی کی بھی ایک دفعہ آپ نے کمان کی۔جلد ۲۰