تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 108
تاریخ احمدیت 108 غیر احمدیوں کے متعلق ہمارا یہ قانون نہیں کیونکہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں اور ہمارے فتویٰ کے پابند نہیں وہ چونکہ ہماری جماعت میں شامل نہیں۔ان پر ان کے مولویوں کا فتویٰ چلے گا۔اور خدا تعالیٰ کے سامنے ہم ان کے ذمہ دار نہیں ہوں گے بلکہ وہ یا ان کے مولوی ہوں گے لیکن اگر تم ایسے لوگوں سے تعلقات رکھتے ہو جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو صرف وہی نہیں بلکہ تم بھی پکڑے جاؤ گے۔خدا کہے گا کہ ان لوگوں کو تم نے اس گناہ پر دلیری اور جرات دلائی اور انہوں نے سمجھا کہ ساری قوم ہمارے اس فعل کو پسند کرتی ہے۔پس آئندہ ایسے احمدیوں سے نہ تم نے مصافحہ کرنا ، نہ انہیں سلام کرنا ہے نہ ان کی دعوتوں میں جانا ہے نہ ان کو بھی دعوت میں بلانا ہے نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا ہے اور نہ ان کو جماعت میں کوئی عہدہ دینا ہے۔بلکہ اگر ہو سکے تو ان کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا۔اسی طرح ہماری جماعت کی عورتوں کو چاہئے کہ ان کی عورتوں سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھیں۔تمہیں ان سے کیا کہ کوئی کتنا مالدار ہے تمہیں کسی مالدار کی ضرورت نہیں۔تمہیں خدا کی ضرورت ہے۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے لئے ان مالداروں سے قطع تعلق کر لو گے تو بے شک تمہارے گھر میں وہ مالدار نہیں آئے گا لیکن تمہارے گھر میں خدا آئے گا اب بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کسی مالدار آدمی کا آنا عزت کا موجب ہے یا خدا تعالیٰ کا آنا عزت کا موجب ہے۔بڑے سے بڑا مالدار بھی ہو تو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔تم اس بات سے مت ڈرو کہ اگر یہ لوگ علیحدہ ہو گئے تو چندے کم ہو جائیں گے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعویٰ کیا تھا تو اس وقت کتنے لوگ چندہ دینے والے تھے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی جماعت پیدا کر دی کہ اب صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ سترہ لاکھ روپیہ کا ہوتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دو چار سال میں ہمارا بجٹ پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ تک جلد ۲۰