تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 107 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 107

تاریخ احمدیت 107 جلد ۲۰ عورتوں کے آزادانہ میل جول کو کس طرح روکا جا سکتا ہے یہ چیزیں ضروری ہیں اور اگر ہم ان امور میں مغربیت کی پیروی نہ کریں تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے وہ لوگ یاد رکھیں کہ وہ اپنے ان افعال سے ( دینِ حق ) اور احمدیت کی کامیابی کے راستہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔یہ چیزیں مٹنے والی ہیں، مٹ رہی ہیں اور مٹ جائیں گی اور ابھی تم میں سے کئی لوگ زندہ ہوں گے کہ تم مغربیت کے درو دیوار اور اس کی چھتوں کو گرتا ہوا دیکھو گے اور مغربیت کے ان کھنڈرات پر ( دینِ حق ) کے محلات کی نئی تعمیر مشاہدہ کرو گے۔یہ کسی انسان کی باتیں نہیں بلکہ زمین و آسمان کے خدا کا فیصلہ ہے اور کوئی نہیں جو اس فیصلہ کو بدل سکے۔۲۸ 66 خلیفه موعود سید نا محمود نے اسی دیرینہ قلبی جوش کے مطابق اس سال ۶ جون ۱۹۵۸ء کے خطبہ جمعہ کے ذریعہ اسلامی پردہ کی ترویج و اشاعت کے لئے ایک زبر دست مہم کا آغاز کیا۔چنانچہ فرمایا : - میں اس خطبہ کے ذریعہ ان لوگوں کو جو اپنی بیویوں کو بے پردہ رکھتے ہیں تنبیہ کرتا ہوں اور انہیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باقی احمدی بھی مجرم ہیں کیونکہ محض اس لئے کہ فلاں صاحب بڑے مالدار ہیں تم ان کے ہاں جاتے ہو ان سے مل کر کھانا کھاتے ہو اور ان سے دوستی اور محبت کے تعلقات رکھتے ہو تمہارا تو فرض ہے کہ تم ایسے شخص کو سلام بھی نہ کرو۔تب بے شک سمجھا جائے گا کہ تم میں غیرت پائی جاتی ہے اور تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت کروانا چاہتے ہو لیکن اگر تم ایسے شخص سے مصافحہ کرتے ہو اس کو سلام کرتے اور اس سے تعلقات رکھتے ہو تو تم بھی ویسے ہی مجرم ہو جیسے وہ ہیں۔پس آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو بے پرد باہر لے جاتے اور مکسڈ پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اگر وہ احمدی ہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم ان سے کوئی تعلق نہ رکھو نہ ان سے مصافحہ کرو نہ انہیں سلام کرو نہ ان کی دعوتوں میں جاؤ اور نہ ان کو کبھی دعوت میں بلا ؤ۔تا کہ انہیں محسوس ہو کہ ان کی قوم اس فعل کی وجہ سے انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔لیکن